کراچی، مختلف ٹریفک حادثات میں 2 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے بلدیہ مواچھ موڑ اور کورنگی کراسنگ کے قریب ٹریفک حادثات میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق سعید آباد کے علاقے بلدیہ مواچھ موڑ کے قریب نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے 55 سالہ راہگیر جاں بحق ہوگیا ، جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کی گئی۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کے پاس سے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس سے اس کی شناخت کی جا سکے ، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش شناخت ورثا کے لیے چھیپا سرخانے منتقل کر دی اور نامعلوم گاڑی والے کے خلاف سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔
مزید پڑھیں: کراچی میں سڑکوں پر موت کا رقص، ڈمپر کی ٹکر سے پروفیسر جاں بحق
زمان ٹاؤن کے علاقے کورنگی کراسنگ انڈس اسپتال کے قریب نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار ایک شخص جاں بحق ہوگیا ، جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کی گئی۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 53 سالہ اقبال ولد ولی مسیح کے نام سے کی گئی ، متوفی کورنگی نمبر ڈھائی کرسچن آبادی کا رہائشی تھا ، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جاں بحق ہونے والے شخص
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں