موبائل فونز پر اشیا ء کی مارکیٹنگ کرنے والوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی، شہریوں کا حکومت سے پابندی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
موبائل فونز پر اشیا کی مارکیٹنگ کرنے والوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی،نوعمر لڑکوں، لڑکیوں سمیت ہر عمر کے افراد کو موبائل فون کے ذریعے اشتہارات بھیجنے کا سلسلہ زوروشور سے جاری، موبائل فون کے حقوق کے تحفظ کے ادارے پی ٹی اے کے حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اس ضمن میں شہریوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو ہنگامی رابطے کے لئے موبائل سیٹ استعمال کرنے کے لئے دئیے ہوئے ہیں مگر ان پر جنسی ادویات سمیت دیگر غیر اخلاقی اشیا کی فروخت کرنے والوں نے ایس ایم ایس کے ذریعے اشتہارات بھجوانے کی بھر مار کر رکھی ہے جن میں متعدد اشتہارات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی عبارت انتہائی فحاشی کے زمرے میں آتی ہے شہریوں نے بتایا کہ انہیں ان اشتہارات کے ساتھ ساتھ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر نجی کمپنیوں کے انعامات جیتنے کے بھی ایس ایم ایس موصول ہوتے ہیں اور یہ عمل روزانہ کی بنیاد پرجاری ہے جس سے کئی سادہ لوح افراد جمع پونجی سے محروم ہو چکے ہیں شہریوں نے اطلاعات و نشریات، وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیاہے کہ موبائل فونز کمپنیوں کو ایسے اشتہارات کے میسجز کرنے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہونے سے محفوظ رہ سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔