موبائل فونز پر اشیا ء کی مارکیٹنگ کرنے والوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی، شہریوں کا حکومت سے پابندی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
موبائل فونز پر اشیا کی مارکیٹنگ کرنے والوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی،نوعمر لڑکوں، لڑکیوں سمیت ہر عمر کے افراد کو موبائل فون کے ذریعے اشتہارات بھیجنے کا سلسلہ زوروشور سے جاری، موبائل فون کے حقوق کے تحفظ کے ادارے پی ٹی اے کے حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اس ضمن میں شہریوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو ہنگامی رابطے کے لئے موبائل سیٹ استعمال کرنے کے لئے دئیے ہوئے ہیں مگر ان پر جنسی ادویات سمیت دیگر غیر اخلاقی اشیا کی فروخت کرنے والوں نے ایس ایم ایس کے ذریعے اشتہارات بھجوانے کی بھر مار کر رکھی ہے جن میں متعدد اشتہارات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی عبارت انتہائی فحاشی کے زمرے میں آتی ہے شہریوں نے بتایا کہ انہیں ان اشتہارات کے ساتھ ساتھ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر نجی کمپنیوں کے انعامات جیتنے کے بھی ایس ایم ایس موصول ہوتے ہیں اور یہ عمل روزانہ کی بنیاد پرجاری ہے جس سے کئی سادہ لوح افراد جمع پونجی سے محروم ہو چکے ہیں شہریوں نے اطلاعات و نشریات، وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیاہے کہ موبائل فونز کمپنیوں کو ایسے اشتہارات کے میسجز کرنے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہونے سے محفوظ رہ سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔