سیکولر بھارتی فوج کے سربراہ کی’ متنازع انتہا پسند گرو‘کے آشرم میں حاضری: وردی ہندوتوا کے آگے جھک گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
بھارتی فوج کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب ہوگیا جب کہ بھارتی فوج کے سربراہ نے متنازع ، سخت انتہا پسند “بابا” جگدگرو رام بھدر آچاریہ کے آشرم میں حاضری دی اور وردی ہندوتوا کے آگے جھک گئی۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپندر دویدی کا مکمل فوجی وردی میں متنازع ہندو مذہبی شخصیت جگدگرو رام بھدرآچاریہ کے آشرم کا دورہ بھارتی فوج کی دیرینہ سیکولر شناخت، آئینی وفاداری اور پیشہ ورانہ غیرجانبداری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ واقعہ مذہبی قوم پرستی کے عسکری اداروں پر غلبے کا ثبوت بن چکا ہے اور اس کے خطے کے امن و استحکام پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
جنرل اوپندر دویدی نے مکمل فوجی وردی میں متنازع ہندو شخصیت رام بھدرآچاریہ کے آشرم کا دورہ کیا، جو متنازع رام جنم بھومی ایودھیہ تحریک کا انتہا پسند حامی ہے۔
رام بھدرآچاریہ وہ متنازعہ گرو ہے جو بابری مسجد کیس کے کلیدی گواہ، دلت مخالف اور مذہبی انتہا پسندی کا چہرہ ہے، جو اکژمسلمانوں، عیسائیوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف زہر افشانی کرتا ہےجو غیر قانونی زمینوں پر قبضہ کر کے ہندو تقاریب کا جشن منا کر ریاستی اعزازات سیاسی وفاداری کے صلے میں حاصل کرتا ہے۔
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپندر دویدی اور انتہا پسند گرو کی ملاقات کے دوران رام بھدرآچاریہ نے “دکشینا” (نزرانہ)کے طور پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر مانگا، جسے جنرل نے قبول کیا۔ یہ فوجی غیرجانبداری کا خاتمہ اور عسکری ادارے کو مذہبی ایجنڈے کا آلہ کار بنانے کی مثال ہے۔
اس کا مطلب یہ ہواکے انڈیا جب تک ٓزاد کشمیر پر قبضہ نہیں کر لیتا پاکستان پر حملے ہوتے رہیں گے۔
یہ ملاقات “آپریشن سیندور” کے پس منظر میں ہوئی، جو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر پر ممکنہ حملے سے جڑی ہوئی ہے – ایک ایسا خفیہ عسکری منصوبہ جس کا ہدف مبینہ طور پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر تھا۔ حیرت انگیز طور پر چھ ماہ قبل ہی رام بھدرآچاریہ نے ایک متنازع پیشگوئی کر دی تھی کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جلد بھارت کا حصہ بن جائے گا۔
گویا رام بھدرآچاریہ کی پیشگوئی نہ صرف ممکنہ فالس فلیگ آپریشن کی پیشگی تیاری تھی بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت مذہبی تائید کے ساتھ پاکستان کے خلاف حملے کی راہ ہموار کی گئی جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارت میں ہندو شدت پسند مذہبی قیادت اور فوجی منصوبہ بندی کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔
بھارتی فوج ہندوتوا، ذات پات اور آمرانہ سیاست میں لپٹی جا رہی ہے، اور بی جے پی و آر ایس ایس کے اثر میں “مودی کی سینا” میں بدل رہی ہے۔
ڈاکٹر جیسن فلپ جیسے نامور تجزیہ کار کے مطابق آرمی چیف کی یونیفارم میں مذہبی رہنما سے ملاقات بھارت کے سیکولر تصور کا خاتمہ ہے۔ بلکہ سابق فوجی افسر کرنل پاون نیئر نے اسے فوجی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا جبکہ سیاسی تجزیہ کار سشانت سنگھ نے شدید حیرت کا اظہار کیا۔
فوجی وردی میں رام بھدرآچاریہ جیسے ہندو انتہا پسند سے ملاقات مذہبی جارحیت اور پیشہ ورانہ عسکری شناخت کے درمیان حد کو مٹا دیتی ہے۔
یہ عمل صرف داخلی سیاست یا مذہبی ایجنڈے کی ترویج تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔جب مذہبی پیشگوئیاں فوجی عزائم کا تعین کرنے لگیں تو یہ ریاستی دہشتگردی کا نیا ماڈل بن جاتا ہے۔
بھارتی فوجی سربراہ کا رام بھدرآچاریہ جیسے متعصب فرد سے تعلق فوجی ادارے میں ہندوتوا کے گہرے نفوذ کی علامت ہy.
فوج اب حکمران جماعت کی عسکری ملیشیا بن چکی ہے، “مودی کی سینا” کا لیبل حقیقت بن چکا ہے، اور فوجی تاریخ کو مذہبی اساطیر سے بدل دیا گیا ہے۔بھارتی فوج، جو کبھی سیکولر زم کی علامت تھی، اب ہندتوا رنگ میں رنگی، سیاست زدہ اور مذہبی انتہا پسندی کا آلہ بن چکی ہے۔ یہ صورت حال پورے خطے اور بین الاقوامی امن کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔
فوج کا سربراہ جب ایک مزیب کا رنگ اوڑھ لے تو باقی فوج میں یقیناً بددلی پھیلتی ہے۔ اور وہ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا وہ اپنی جانیں زغفرانی فوج کے لئے دے رہے ہیں؟
Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی فوج کے سربراہ رام بھدرآچاریہ پاکستان کے زیر انتہا پسند کے آشرم
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔