پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی تعلقات کی ایک بھرپور اور قابل فخر تاریخ ہے،عطاء تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
اسلام آباد: وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اٹلی کے قومی دن کے موقع پر اسلام آباد میں منعقدہ ایک پُروقار تقریب میں شرکت کی ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عطاء تارڑ نے کہا کہ اس خوشی کے موقع پر شرکت ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔وفاقی وزیر نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے اٹلی کے عوام اور حکومت کو ان کے قومی دن پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی تعلقات کی ایک بھرپور اور قابل فخر تاریخ ہے، جو باہمی اعتماد، تعاون، اور عالمی امن و ترقی کے عزم پر مبنی ہیں۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ممالک ایک جامع، طویل المدتی شراکت داری کے قیام کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اٹلی عالمی امن کے فروغ میں ایک مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور اٹلی 75 سالہ دوطرفہ تعلقات مکمل کر چکے ہیں اور دونوں ممالک کے روابط مسلسل مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ حال ہی میں اٹلی کے وزیر داخلہ نے پاکستان کا دورہ کیا اور محنت کشوں کی نقل و حرکت سے متعلق دوطرفہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے، جو دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان 2013ء سے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان (ایس ای پی) کے تحت ایک موثر مکالماتی نظام قائم ہے اور سیاسی و اقتصادی امور پر باقاعدہ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل ڈائیلاگ کا آخری اجلاس رواں سال فروری میں ہوا جبکہ پاکستان ۔ اٹلی مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اگلے اجلاس کی میزبانی کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اٹلی تجارت اور معیشت کے میدان میں پاکستان کا اہم شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو خوش آئند ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی اطالوی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں جبکہ اٹلی یورپی یونین میں پاکستانی طلبہ کے لیے ایک پرکشش مقام بن چکا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق اس وقت تقریباً 3500 پاکستانی طلبہ اٹلی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں اکثریت روم کی معروف ”لا سپینزا یونیورسٹی“ میں زیر تعلیم ہے۔انہوں نے اٹلی میں پاکستان کے مثبت تشخص کے فروغ اور باہمی شراکت داری کو مستحکم بنانے میں اٹلی کی سفیر مریلینا آرمیلن اور ان کی ٹیم کی انتھک کوششوں کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دونوں ممالک کے پاکستان اور کہ پاکستان کے درمیان نے کہا کہ انہوں نے تارڑ نے اٹلی کے
پڑھیں:
ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔