پاکستانی وفد کی اقوام متحدہ میں چین، روس سمیت کئی ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں، پاکستان کا مؤقف پیش کیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
ویب ڈیسک : پاکستان کے سفارتی وفد نے اقوام متحدہ میں چین، روس کے مندوبین اوردیگر کئی ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں وفد نے اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ، روسی مندوب سے ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق ڈنمارک، یونان، پاناما، صومالیہ، الجزائر، گھانا، جاپان، جنوبی کوریا، سیرا لیون اور سلووینیا کے نمائندوں نے پاکستانی وفد سے ملاقات کی جس میں بلاول بھٹو نے بے بنیاد بھارتی الزامات کو منتخب اراکین کے سامنے مسترد کیا۔
وفاقی حکومت نے عیدالاضحٰی پر عام تعطیلات کا اعلان کردیا
بلاول کا کہنا تھاکہ بغیر کسی تحقیق یا شواہد کے پاکستان پر الزام تراشی ناقابلِ قبول ہے، شہری علاقوں پربھارتی حملے، سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے لہٰذا عالمی برادری جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے تنازع سے قبل حل تلاش کرے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب اراکین نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا۔
پاکستانی وفد کی چینی مندوب سے ملاقات
ایشین انڈور روئنگ چیمپئن شپ؛پاکستان نے10گولڈ، 3چاندی، 1 کانسی کا میڈل جیت لیا
چین کے مندوب فو کانگ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں آنے والے پاکستانی سفارت وفد سے ملاقات کی۔
پاکستان مشن نیویارک میں ہوئی اس ملاقات میں بھارت کی حالیہ جارحیت کے بعد جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی مسلسل کوششوں پربات چیت کی گئی۔بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی اشتعال انگیزی کے دوران چین کی غیر متزلزل حمایت پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے 22 اپریل 2025 کو پہلگام حملے کے بعد کی صورتحال سے چینی فریق کو آگاہ کیا اور بھارت کے جارحانہ رویے کے مقابلے میں پاکستان کے ذمہ دارانہ اور محتاط طرز عمل کو اجاگر کیا۔
پشاور میں دفعہ 144 لگ گئی
بلاول بھٹو نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کی جانب سے غیر جانبدار، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کو بھارت نے مسترد کر دیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ناگزیر ہے اور چین پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کثیر الجہتی تعاون اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل میں مؤثر کردار ادا کرے۔
بلاول بھٹو نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعات کو مینج کرنے سے آگے بڑھ کر ان کے مستقل حل کی طرف قدم بڑھائے تاکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن ممکن ہو سکے۔
عیدالاضحٰی پر عام تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری
وفد نے بھارت کی جانب سے پاکستانی سرزمین پر بلاجواز حملوں، جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنانے، پاکستان میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور حمایت میں ملوث ہونے اور سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے جیسے اشتعال انگیز اقدامات کی تفصیلات سے بھی چینی قیادت کو آگاہ کیا۔ وفد نے پانی کو ہتھیار بنانے کو بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا۔دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جارحانہ اقدامات اور یکطرفہ فیصلے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں اور ان کی سختی سے مخالفت کی جانی چاہیے۔فریقین نے پرامن طریقے سے تنازعات کے حل، کثیر الجہتی تعاون، اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پاسداری، معاہدوں کے تقدس اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
میو ہسپتال سے ادویات چوری پکڑی گئی
پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ بھارت کی عاقبت نااندیش کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں، مقبوضہ جموں وکشمیر حل طلب تنازعہ اور علاقائی امن کی راہ میں فالٹ لائن ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان جنگ بندی اور علاقائی استحکام کے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کے چارٹر کےتحت پرامن حل نکالا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کی جانب سے نیونارمل قرار دی جانیوالی جارحیت کے خطرناک رجحان کومسترد کردے۔
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی وفد، واشنگٹن، لندن اور برسلز بھی جائے گا جہاں عالمی اداروں، ارکان پارلیمان، تھنک ٹینکس اور میڈیا سے رابطے کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو نے پاکستانی وفد جنوبی ایشیا زور دیا کہ سے ملاقات بھارت کی انہوں نے وفد نے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔