زلزلے کے باعث ملیر جیل کے بیرکس کی دیواروں میں دراڑ، 300 قیدی فرار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
کراچی ( نیوز ڈیسک) زلزلے کے باعث ملیر جیل کی دیواروں میں دراڑ، 300 قیدی فرار، رات گئے ملیر جیل سے متعدد قیدی فرار ہو گئے۔
قیدیوں کی گرفتاری کے لیے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا۔ اس دوران جیل کے باہر شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
جیل ذرائع کے مطابق زلزلے کے جھٹکوں کے پیش نظر قیدیوں کو بیرکوں سے باہر لایا گیا تھا۔ اس دوران بعض قیدیوں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر فرار کی کوشش کی۔
پولیس کی جانب سے قیدیوں کے فرار کو ناکام بنانے کے لیے فائرنگ کی جا رہی ہے۔ بیشتر قیدیوں کو بیرکوں میں واپس پہنچا دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق فرار ہونے والے چار قیدیوں کو پکڑ لیا گیا ہے۔
واقعہ کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جس میں قیدیوں کو ننگے پاؤں فرار ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ملیر جیل سے زیادہ تعداد میں قیدی جیل کی دیوار توڑ کر بھاگ گئے ہیں جس کی وجہ سے جیل پولیس نے روڈ بند کر دیا ہے۔
مین نیشنل ہائی وے این ایل سی کٹ کے سامنے جانب گلشن حدید اور جانب قائد آباد آنے جانے والے دونوں روڈ ٹریفک کے لیے بند کر دئیے گئے ہیں۔ ٹریفک کو منزل پمپ سے یونس چورنگی کی طرف اور پورٹ قاسم سے میران ہائی وے کی طرف ڈاؤرشن دی گئی ہے۔
اس حوالے سے جیل حکام سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم ان کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔آخری اطلاعات تک فرار قیدیوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری تھا۔
وزیر جیل سندھ علی حسن زرداری نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی جیل اور ڈی آئی جیل سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
انہوں نے احکامات دئیے کہ علاقے کو کارڈن آف کردیاجائے ، اگر کوئی قیدی فرار ہوا ہے تو ہر حال میں پکڑا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ واقعہ میں غفلت برتنے والے افسران کا تعین کیا جائے گا ۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قیدیوں کو ملیر جیل کے لیے
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔