کراچی میں زلزلے کے دوران ملیر جیل میں ہنگامہ، 200 سے زائد قیدی فرار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
کراچی میں رات گئے زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ملیر جیل سے 200 سے زائد قیدی فرار ہوگئے جن میں سے متعدد کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا، تاہم 100 سے زائد قیدی تاحال مفرور ہیں۔
سپرنٹنڈنٹ جیل ارشد شاہ کے مطابق ملیر جیل سے فرار ہونیوالے قیدیوں کی مجموعی تعداد 216 تھی، جن میں سے 80 گرفتار کرلیے گئے تاہم 135 سے زائد قیدی تاحال مفرور ہیں، جنہیں تلاش کیا جارہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کی رات زلزلے کے دوران کسی ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے قیدیوں کو بیرکوں سے باہر جمع کیا گیا تھا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلےکے باعث دیوار ٹوٹنے پر قیدی جیل سے فرار ہوئے تاہم بعد میں بتایا گیا کہ زلزلے کے دوران قیدیوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق جیل میں قیدیوں نے پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی کی اور اسلحہ چھین کر فائرنگ کی اور اس دوران 200 سے زائد قیدی فرار ہوئے۔
ڈی آئی جی جیل کراچی محمد حسن سہتو نے میڈیا کو بتایا کہ زلزلے کے جھٹکوں کے دوران قیدیوں کی بڑی تعداد بیرکس سے باہر تھی، انہوں نے ماڑی کا گیٹ بھی توڑا، اور جیل میں تعینات پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
زلزلے فرار قیدی کراچی مفرور ملیر جیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: زلزلے کراچی ملیر جیل زلزلے کے کے دوران ملیر جیل کے مطابق
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔