پاکستان میں ایک دن میں ساتواں زلزلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
سٹی42: پاکستان مین ایک دن میں ساتواں زلزلہ آ گیا۔
گزشتہ چھ زلزلوں کی طرح یہ زلزلہ بھی کراچی میں آیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقہ ڈیفنس کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔ زلزلہ کے جھٹکوں نے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا۔ بہت سے لوگ کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔
ریختر سکیل پر اس ساتویں زلزلے کی شدت3.
وفاقی حکومت نے عیدالاضحٰی پر عام تعطیلات کا اعلان کردیا
گہرائی 13کلومیٹر تھی،زلزلہ پیما مرکز نے بتایا ہے کہ اس زلزلے کا مرکز کراچی کی آبادی ڈیفنس سے 30 کلومیٹر دور مشرق میں تھا۔
زلزلہ کے جھٹکے 8:49 منٹ پر محسوس کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔