پاکستان اور اٹلی جامع، طویل المدتی شراکت داری کے خواہاں ہیں‘ عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے)وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا اٹلی کے قومی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی کے قومی دن کی پرمسرت تقریب میں شرکت میرے لئے باعث اعزاز ہے، عطا اللہ تارڑ نے کہا حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام کی جانب سے اٹلی کے عوام اور حکومت کو ان کے قومی دن پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، عطا اللہ تارڑ نے کہا پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی تعلقات کی بھرپور تاریخ ہے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، تعاون اور عالمی امن و ترقی کے عزم پر مبنی ہیں پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے عطا اللہ تارڑ نے کہا دونوں ممالک جامع، طویل المدتی شراکت داری کے قیام کے خواہاں ہیں، اٹلی امن کے فروغ میں موثر کردار ادا کر سکتا ہے، عطا اللہ تارڑ نے کہا پاکستان اور اٹلی 75 سالہ دوطرفہ تعلقات مکمل کر چکے ہیں، ہمارے روابط مسلسل مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، عطا اللہ تارڑ نے کہا گزشتہ ماہ اٹلی کے وزیر داخلہ نے پاکستان کا دورہ کیا اور محنت کشوں کی نقل و حرکت سے متعلق دوطرفہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے موجودہ علاقائی کشیدگی کے باوجود اٹلی کے وزیر داخلہ کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے ۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا تقریباً 3500 پاکستانی طلبہ اس وقت اٹلی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں،پاکستانی طالب علموں کی اکثریت روم کی ’’لا سپینزا یونیورسٹی‘‘ میں زیر تعلیم ہے، عطا اللہ تارڑ نے کہا پاکستان اور اٹلی کے درمیان باہمی فائدہ مند شراکت داری کو مضبوط بنانے میں اٹلی کی سفیر مریلینا آرمیلن اور ان کی ٹیم کی انتھک کوششیں قابل ستائش ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عطا اللہ تارڑ نے کہا پاکستان اور اٹلی اٹلی کے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔