UrduPoint:
2026-07-24@14:35:23 GMT

غیر ملک کو اپنا بنائیں

اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT

غیر ملک کو اپنا بنائیں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 جون 2025ء) 2024 ءکے ڈیٹا کے مطابق جرمنی میں تقریبا 20 فیصد آبادی تارکین وطن کی ہے۔ جرمن حکومت کی طرف سے نئے آنے والے افراد کی آباد کاری بہت پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں۔ مگر اکثر خاندان اپنی لاعلمی کی وجہ سے زبان اور ہنر سیکھنے یا حلقہ احباب بنانے اور اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کے مواقع گنوا دیتے ہیں۔

اکثر اوقات گھریلو خواتین کے لیے بیرون ملک رہنا زیادہ دشوار ثابت ہوتا ہے۔ گھر کی ذمہ داری اور اپنوں سے دوری بہت سے ذہنی مسائل کا سبب بنتی ہے۔ نئی جگہ پر جلد ایک سماجی حلقہ بنانا، زبان، نئے اصول و ضوابط سیکھنا اور سب سے بڑھ کر اپنے شوہر کے ساتھ زندگی صفر سے شروع کرنا اکثر سوچ سے زیادہ مشکل ثابت ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

ایسی صورتحال میں خواتین کا خود اپنا اکیلا پن دور کرنے کے لیے اور نئے کلچر اور ملک میں جگہ بنانے کے لیے فعال کردار ادا کرنا نہایت اہم ہے۔

پاکستان سے آنے سے پہلے ہی اپنا مکمل ہوم ورک کر کے جس قدر ممکن ہو زبان اصول اور قانون سیکھ لینے چاہییں۔ جرمن حکومت کی طرف سے دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے شہریوں کے لیے انٹیگریشن یا انظمام کے بہت سے پروگرام موجود ہیں مگر زیادہ تر لوگ ان کا علم نہیں رکھتے۔

تقریبا تمام شہروں میں فیملی سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ یہ خاندانی مراکز شہر میں موجود کنڈر گارٹن، ڈے کیئر اور مختلف بے بی گروپ کے منتظمین ہیں۔

یہ مراکز دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے خاندانوں کے لیے بہت سے مواقع فراہم کرتے ہیں جن میں سب سے اہم جرمن لینگویج کیفے کا انتظام ہے۔ جہاں ایک پرسکون ماحول میں مل کر بیٹھنا اور زبان سیکھنے کا بالکل مفت موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مختلف مشاغل کی بنیاد پر مل کر کھانا بنانا، سلائی سیکھنا، ورزش کے کورس، اکٹھے سیر پہ جانا وغیرہ ان مراکز کی پیشکش میں شامل ہے۔

ایک بہت اہم پروگرام جس کا علم رکھنا ہر چھوٹے بچوں والے خاندان کے لیے ضروری ہے وہ ہیں بچوں کے بے بی گروپ جو پیدائش سے تین سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔ یہ گروپ نا صرف والدین خاص تر ماؤں کو مل بیٹھنے، زبان سیکھنے اور سوشلائز کرنے کے مواقع دیتے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ ماہرین چھوٹے بچوں کی نشونما میں آنے والے اہم سنگ میل سے متعلق معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔

یہ تمام پروگرام بالکل مفت ہیں۔

جرمنی میں بڑھتی ہوئی ایک مثبت تبدیلی مختلف مذہبی تہوار کا انتظام بھی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک کرسمس کے علاوہ کسی بھی تہوار کے لیے خاص انتظام دیکھنے کو نہیں ملتا تھا۔ گزشتہ کچھ سالوں سے یہی فیملی سینٹر عید الفطر جسے جرمن میں سکرفیسٹ کہا جاتا ہے، کا باقاعدہ انتظام کرتے ہیں۔ کچھ سکولوں یا کنڈر گارٹن میں رمضان میں ایک دفعہ افطار کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔

مل کر بیٹھنا مہندی لگانا، دوستانہ ماحول میں مختلف تہذیبوں سے متعلق سیکھنا بھی عام ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے تمام مواقع ایک دوسرے کے لیے احترام اور برداشت پیدا کرتے ہیں اس لیے بہت ضروری ہے کہ اگر جرمن حکومت ہمیں بتا رہی ہے کہ ہم مسلمان اہمیت رکھتے ہیں تو ہم اس کوشش میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے مذہب اور اپنے ملکوں سے جڑے متعصبانہ خیالات کو جڑ سے ختم کریں۔

اسی طرح یہ علم رکھنا ضروری ہے کہ جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے کیا کیا مدد ممکن ہے۔ مختلف مشاغل اور سپورٹس کے بہت سے مواقع ہیں، جن کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ حکومت کی طرف سے تارکین وطنوں کے لیے خاص ایکٹو کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں جن کے ذریعے وہ زیادہ تر سیر و تفریح اور سپورٹس کے پروگرام پر خاص رعایت حاصل کر سکتے ہیں۔

مختلف فیس بک گروپس پر دیسی کمیونٹی سے جڑ کر رہا جا سکتا ہے اور اس طرح بہت سی معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں۔

گھر سے نکل کر تازہ ہوا میں سانس لینا اور ایک قابل بھروسہ دوستانہ حلقہ ہونا بہت ضروری ہے ورنہ تنہائی کا احساس اکثر منفی سوچ کو جنم دیتا ہے۔ یہاں یہ نقطہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اپنے لوگوں سے روابط میں ضرور رہیں مگر اپنا سماجی حلقہ صرف پاکستانیوں تک محدود نہ کریں۔ اپنے سماجی حلقے اور اپنی سوچ دونوں کو اتنا وسیع ضرور کریں کہ کچھ نیا سیکھنا اور آگے بڑھنا ممکن رہے۔

مثبت رویہ قائم رکھنے کے لیے اور اپنی ذہنی صحت بہتر بنانے کے لیے فعال طور پر بہت سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں جو ایک دوسرے کو اسپیس دینے اور اپنی زندگی خود کامیاب اور خوشگوار رکھنے کے لیے بہت اہم ہے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ضروری ہے اور اپنی کرتے ہیں کے لیے بہت سے

پڑھیں:

مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی

 صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون کا طاقتور سپیل جاری ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آج بھی وقفے وقفے سے بارش کی پیش گوئی کردی، مون سون بارشوں کے باعث حبس اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت 27 اور زیادہ سے زیادہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، شہر کا موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوا کی رفتار 11 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہوا میں نمی کا تناسب 83 فیصد رہا۔محکمہ موسمیات نے آج جمعہ کے روز پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں پر اثرانداز ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی موسم کو متاثر کر رہا ہے، اس کے باعث بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا امکان برقرار رہے گا۔پیشگوئی کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے، خیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے، سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں شدید بارش کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، برساتی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے جبکہ شہریوں، بالخصوص سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ادھر قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے بھی مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ تیز بارش، آندھی یا گرج چمک کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران