اسلام آباد:

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) نے ملک بھر کی موٹرویز پر ٹول ٹیکس میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، اضافی ٹول چارجز 15 جون 2025 سے موٹرویز پر لاگو ہوں گے۔

 نئی پالیسی کے تحت نان ایم ٹیگ گاڑیوں اور کم بیلنس والی گاڑیوں پر 50 فیصد اضافی ٹول چارجز لاگو ہوں گے۔ یہ اقدام نہ صرف ریونیو میں اضافہ بلکہ ایم ٹیگ کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنایا جا سکے اور موٹروے نیٹ ورک کو مزید مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔

نئے ٹول ٹیکس کے مطابق اسلام آباد سے لاہور (M-2) موٹروے پر کار کے لیے ٹول ٹیکس 1800 روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ لاہور سے عبدالحکیم (M-3) کے درمیان سفر کرنے والی کاروں کے لیے یہ ٹول 1200 روپے ہو گا۔ پنڈی بھٹیاں سے ملتان (M-4) موٹروے پر کار کے لیے نیا ٹول 1600 روپے اور ملتان سے سکھر (M-5) کے لیے 1800 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ ڈی آئی خان سے حاکلہ (M-14) موٹروے پر کار کا ٹول 1000 روپے جبکہ حسن ابدال سے مانسہرہ (E-35) ایکسپریس وے پر کار کے لیے نیا ٹول 450 روپے طے کیا گیا ہے۔

کمرشل گاڑیوں کے لیے بھی ٹول ٹیکس میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ لاہور سے اسلام آباد سفر کرنے والے 2 اور 3 ایکسل ٹرک کے لیے نیا ٹول 7900 روپے جبکہ آرٹی کیولیٹڈ ٹرک کے لیے 10200 روپے مقرر کیا گیا ہے۔

موٹروے حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 15 جون سے قبل اپنے ایم ٹیگ فعال کروا لیں اور اس میں مطلوبہ بیلنس یقینی بنائیں تاکہ اضافی چارجز سے بچا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیا گیا ہے ٹول ٹیکس ایم ٹیگ پر کار کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار