شنگھائی تعاون تنظیم کا ڈیولپمنٹ بینک کے قیام کا منصوبہ، وزیرخزانہ کی بھرپور حمایت
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ڈیولپمنٹ بینک کے قیام کے منصوبی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ایس سی او نیٹ ورک آف فنانشل تھنک ٹینکس کی فعالیت کی تجویز کا بھی خیر مقدم کیا۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ ایس سی او رکن ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کیا وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اہم اجلاس کی میزبانی پر عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی اجلاس میں بنفس نفیس شریک ہونے کی خواہش تھی تاہم پاکستان میں سالانہ بجٹ سیزن جاری ہونے کے باعث شرکت ممکن نہ ہو سکی۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور تنظیم کو علاقائی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کا مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا۔
انہوں نے ایس سی او کے منشور اور "شنگھائی اسپرٹ" کے اصولوں کے تحت علاقائی تعاون آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا اور خطے کی ترقی کے لیے نئے مواقع کی تلاش میں ایس سی او کی سرگرمیوں کو سراہا اور ایس سی او کے دائرہ کار میں معاشی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔
وزیر خزانہ نے تنظیم علاقائی استحکام اور خوش حالی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے اور رکن ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون کو فروغ دینے میں ایس سی او کے کردار کی تعریف کی۔
انہوں نے رکن ممالک کے مابین مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت بڑھانے کے پروگراموں کے مواقع بڑھانے کی تجویز کی حمایت کی۔
محمد اورنگزیب نے ڈیجیٹل معیشت اور مالی شمولیت کی اہمیت کا ذکر کیا اور پاکستان کی معاشی ترقی اور خوش حالی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال کو اجاگر کیا۔
وزیر خزانہ نے عالمی معیشت میں سست روی، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریوں اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے بڑے مسائل کے مشترکہ حل اور رکن ممالک کے لیے یکساں طور پر مفید ترقیاتی ماڈل اپنائے جانے پر زور دیا۔
انہوں نے معاشی ترقی اور علاقائی روابط بڑھانے میں انفرا اسٹرکچر کی ترقی کو اجاگر کیا اور خطے میں ٹرانسپورٹ، توانائی اور ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانے کے اقدامات کی حمایت کی۔
وزیر خزانہ نے ایس سی او ڈیولپمنٹ بینک کے قیام کے منصوبے کی بھرپور حمایت کی اور اسے رکن ممالک کے درمیان ترقی اور معاشی تعاون کو فروغ دینے، انفرا اسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی اور علاقائی روابط اور معاشی ہم آہنگی کے لیے اہم قرار دیا۔
انہوں نے بینک کے قیام کے تکنیکی پہلوؤں کے حوالے سے پاکستان کے نکتہ نظر کا اجاگر کرتے ہوئے امید ظاہر کی مجوزہ بینک جدت، ڈیجیٹل فنانس، فِن ٹیک سلوشنز اور ماحول دوست مالیاتی طریقوں کو اپنی بنیادی سرگرمیوں کا حصہ بنائے گا۔
وزیر خزانہ نے ایس سی او نیٹ ورک آف فنانشل تھنک ٹینکس کی فعالیت کی تجویز کا بھی خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ مالیاتی تعاون کے میدان میں تحقیق، تجزیوں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
ایس سی او اجلاس میں خطاب کے دوران انہوں نے پاکستان کی جانب سے ایس سی او کے پلیٹ فارم تلے معاشی تعاون بڑھانے اور خطے میں معاشی خوش حالی، استحکام اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں تعاون اور باہمی مفاد کو سامنے رکھنے کا عزم دہرایا۔
وزیر خزانہ نے پاکستان میں نمایاں معاشی استحکام کے حصول اور پائیدار اور جامع معاشی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھنے کے لیے مختلف شعبوں میں کی گئی، اصلاحات بالخصوص مالی نظم و ضبط، اہم معاشی اشاریوں میں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی، کرنسی کی قدر میں استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ بڑھنے کا بھی ذکر کیا۔
اس سے قبل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چین کے وزیر خزانہ اور گورنر پیپلز بنک آف چائنا نے پاکستان کی معاشی ترقی کو سراہا اور ملک میں معاشی استحکام کے کامیاب حصول اور اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت پاکستان کو مبارک باد پیش کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کو فروغ دینے رکن ممالک کے بینک کے قیام ایس سی او کے نے پاکستان کرتے ہوئے انہوں نے کیا اور کے لیے
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔