شنگھائی تعاون تنظیم کا ڈیولپمنٹ بینک کے قیام کا منصوبہ، وزیرخزانہ کی بھرپور حمایت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ڈیولپمنٹ بینک کے قیام کے منصوبی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ایس سی او نیٹ ورک آف فنانشل تھنک ٹینکس کی فعالیت کی تجویز کا بھی خیر مقدم کیا۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ ایس سی او رکن ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کیا وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اہم اجلاس کی میزبانی پر عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی اجلاس میں بنفس نفیس شریک ہونے کی خواہش تھی تاہم پاکستان میں سالانہ بجٹ سیزن جاری ہونے کے باعث شرکت ممکن نہ ہو سکی۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور تنظیم کو علاقائی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کا مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا۔
انہوں نے ایس سی او کے منشور اور "شنگھائی اسپرٹ" کے اصولوں کے تحت علاقائی تعاون آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا اور خطے کی ترقی کے لیے نئے مواقع کی تلاش میں ایس سی او کی سرگرمیوں کو سراہا اور ایس سی او کے دائرہ کار میں معاشی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔
وزیر خزانہ نے تنظیم علاقائی استحکام اور خوش حالی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے اور رکن ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون کو فروغ دینے میں ایس سی او کے کردار کی تعریف کی۔
انہوں نے رکن ممالک کے مابین مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت بڑھانے کے پروگراموں کے مواقع بڑھانے کی تجویز کی حمایت کی۔
محمد اورنگزیب نے ڈیجیٹل معیشت اور مالی شمولیت کی اہمیت کا ذکر کیا اور پاکستان کی معاشی ترقی اور خوش حالی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال کو اجاگر کیا۔
وزیر خزانہ نے عالمی معیشت میں سست روی، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریوں اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے بڑے مسائل کے مشترکہ حل اور رکن ممالک کے لیے یکساں طور پر مفید ترقیاتی ماڈل اپنائے جانے پر زور دیا۔
انہوں نے معاشی ترقی اور علاقائی روابط بڑھانے میں انفرا اسٹرکچر کی ترقی کو اجاگر کیا اور خطے میں ٹرانسپورٹ، توانائی اور ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانے کے اقدامات کی حمایت کی۔
وزیر خزانہ نے ایس سی او ڈیولپمنٹ بینک کے قیام کے منصوبے کی بھرپور حمایت کی اور اسے رکن ممالک کے درمیان ترقی اور معاشی تعاون کو فروغ دینے، انفرا اسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی اور علاقائی روابط اور معاشی ہم آہنگی کے لیے اہم قرار دیا۔
انہوں نے بینک کے قیام کے تکنیکی پہلوؤں کے حوالے سے پاکستان کے نکتہ نظر کا اجاگر کرتے ہوئے امید ظاہر کی مجوزہ بینک جدت، ڈیجیٹل فنانس، فِن ٹیک سلوشنز اور ماحول دوست مالیاتی طریقوں کو اپنی بنیادی سرگرمیوں کا حصہ بنائے گا۔
وزیر خزانہ نے ایس سی او نیٹ ورک آف فنانشل تھنک ٹینکس کی فعالیت کی تجویز کا بھی خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ مالیاتی تعاون کے میدان میں تحقیق، تجزیوں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
ایس سی او اجلاس میں خطاب کے دوران انہوں نے پاکستان کی جانب سے ایس سی او کے پلیٹ فارم تلے معاشی تعاون بڑھانے اور خطے میں معاشی خوش حالی، استحکام اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں تعاون اور باہمی مفاد کو سامنے رکھنے کا عزم دہرایا۔
وزیر خزانہ نے پاکستان میں نمایاں معاشی استحکام کے حصول اور پائیدار اور جامع معاشی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھنے کے لیے مختلف شعبوں میں کی گئی، اصلاحات بالخصوص مالی نظم و ضبط، اہم معاشی اشاریوں میں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی، کرنسی کی قدر میں استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ بڑھنے کا بھی ذکر کیا۔
اس سے قبل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چین کے وزیر خزانہ اور گورنر پیپلز بنک آف چائنا نے پاکستان کی معاشی ترقی کو سراہا اور ملک میں معاشی استحکام کے کامیاب حصول اور اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت پاکستان کو مبارک باد پیش کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کو فروغ دینے رکن ممالک کے بینک کے قیام ایس سی او کے نے پاکستان کرتے ہوئے انہوں نے کیا اور کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔