وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا شمالی وزیرستان میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 جون2025ء) وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےشمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے ایک ایک خوارجی دہشتگرد کا مکمل صفایا کریں گے۔بدھ کو اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر داخلہ نے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے 14 بھارتی حمایت یافتہ خوارجی دہشتگردوں کو جہنم واصل کرکے بڑی کامیابی حاصل کی۔ محسن نقوی نے کہا کہ انڈین حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو سلام پیش کرتے ہیں،قوم خوارجی دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حمایت یافتہ خوارجی دہشتگردوں کو عبرتناک انجام واضح پیغام ہے کہ پاکستان میں خوارجیوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی،پاکستان کی سرزمین سے ایک ایک خوارجی دہشتگرد کا مکمل صفایا کریں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بھارتی حمایت یافتہ پر سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔