ٹرمپ کا بجٹ بل ’قابلِ نفرت غلاظت‘ ہے، ایلون مسک
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ ٹیکس اور اخراجات میں کٹوتی کے بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’قابلِ نفرت غلاظت‘ قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مسک نے لکھا کہ یہ بل وفاقی بجٹ خسارے کو بڑھا کر 2.5 ٹریلین ڈالر تک لے جائے گا اور امریکی عوام پر ناقابلِ برداشت قرض کا بوجھ ڈالے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل فضول خرچی اور کرپشن سے بھرا ہوا ہے، اور ان ارکانِ کانگریس کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جنہوں نے اس کی حمایت کی۔
مسک کے مطابق یہ قانون سازی ٹرمپ انتظامیہ کے اخراجات کم کرنے کے پروگرام DOGE کو نقصان پہنچاتی ہے، جس کی وہ سربراہی کرتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک ٹرمپ انتظامیہ سے مستعفی، مشیر کا عہدہ خاموشی سے چھوڑ دیا
وائٹ ہاؤس نے مسک کی تنقید مسترد کر دی۔ ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس بل کو خوبصورت سمجھتے ہیں اور اپنی پالیسی پر قائم ہیں۔ انہوں نے کانگریشنل بجٹ آفس کی رپورٹ کو بھی جانبدار قرار دیا جس میں کہا گیا ہے کہ یہ بل آئندہ دہائی میں 3.
ریپبلکن پارٹی میں بھی اختلاف سامنے آیا ہے۔ ریپ تھامس میسی، سینیٹر مائیک لی اور سینیٹر رینڈ پال نے مسک کی حمایت کی اور بل کو مالی غلطی قرار دیا۔ مسک نے پال کی حمایت پر امریکی پرچم کا ایموجی پوسٹ کیا۔
مسک 2024 میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سب سے بڑے مالی معاون رہے ہیں، تاہم حکومتی پالیسیوں، خصوصاً ٹیرف اور اخراجات پر اختلاف ان کے تعلقات میں تناؤ کا سبب بن رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’قابلِ نفرت غلاظت‘ اسپیس ایکس ایلون مسک بجٹ بل ٹیسلا صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: قابل نفرت غلاظت اسپیس ایکس ایلون مسک ٹیسلا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایلون مسک
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔