WE News:
2026-07-24@03:48:59 GMT

ٹرمپ کا بجٹ بل ’قابلِ نفرت غلاظت‘ ہے، ایلون مسک

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

ٹرمپ کا بجٹ بل ’قابلِ نفرت غلاظت‘ ہے، ایلون مسک

ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ ٹیکس اور اخراجات میں کٹوتی کے بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’قابلِ نفرت غلاظت‘ قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مسک نے لکھا کہ یہ بل وفاقی بجٹ خسارے کو بڑھا کر 2.5 ٹریلین ڈالر تک لے جائے گا اور امریکی عوام پر ناقابلِ برداشت قرض کا بوجھ ڈالے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل فضول خرچی اور کرپشن سے بھرا ہوا ہے، اور ان ارکانِ کانگریس کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جنہوں نے اس کی حمایت کی۔

مسک کے مطابق یہ قانون سازی ٹرمپ انتظامیہ کے اخراجات کم کرنے کے پروگرام DOGE کو نقصان پہنچاتی ہے، جس کی وہ سربراہی کرتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایلون مسک ٹرمپ انتظامیہ سے مستعفی، مشیر کا عہدہ خاموشی سے چھوڑ دیا

وائٹ ہاؤس نے مسک کی تنقید مسترد کر دی۔ ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس بل کو خوبصورت سمجھتے ہیں اور اپنی پالیسی پر قائم ہیں۔ انہوں نے کانگریشنل بجٹ آفس کی رپورٹ کو بھی جانبدار قرار دیا جس میں کہا گیا ہے کہ یہ بل آئندہ دہائی میں 3.

8 ٹریلین ڈالر خسارہ بڑھائے گا۔

ریپبلکن پارٹی میں بھی اختلاف سامنے آیا ہے۔ ریپ تھامس میسی، سینیٹر مائیک لی اور سینیٹر رینڈ پال نے مسک کی حمایت کی اور بل کو مالی غلطی قرار دیا۔ مسک نے پال کی حمایت پر امریکی پرچم کا ایموجی پوسٹ کیا۔

مسک 2024 میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سب سے بڑے مالی معاون رہے ہیں، تاہم حکومتی پالیسیوں، خصوصاً ٹیرف اور اخراجات پر اختلاف ان کے تعلقات میں تناؤ کا سبب بن رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’قابلِ نفرت غلاظت‘ اسپیس ایکس ایلون مسک بجٹ بل ٹیسلا صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: قابل نفرت غلاظت اسپیس ایکس ایلون مسک ٹیسلا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایلون مسک

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل