قیمتوں کے گٹھ جوڑ پر ایڈوائزری کونسل سمیت6 کھادکمپنیوں پرکروڑوں روپے کاجرمانہ عائد
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 جون2025ء)کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے قیمتوں کے گٹھ جوڑ پر ایڈوائزری کونسل سمیت6 کھاد کمپنیوں پر کروڑوں روپیکا جرمانہ عائد کردیا۔کمپیٹیشن کمیشن نے کہاکہ کھاد کمپنیوں کی پیداواری لاگت مختلف ہے تو پھر قیمت یکساں کیسے ہی ۔جاری اعلامیے کے مطابق کھاد قیمتوں کے گٹھ جوڑ میں ایڈوئزری کونسل اور 6 کھاد کمپنیاں ملوث پائی گئیں، گٹھ جوڑ پرکھاد کمپنیوں پر 37 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
(جاری ہے)
کمپیٹیشن کمیشن کے مطابق کھادکمپنیوں نے آگاہی مہم کی آڑ میں قیمتیں طے کیں، پالیسی کے تحت فرٹیلائزر سیکٹر کی قیمتیں ڈی ریگولیٹڈ ہیں، قیمتوں کا اعلان ایڈوائزری نہیں بلکہ کاروباری فیصلہ تھا۔کمپیٹیشن کمیشن کے مطابق 6کمپنیوں پر پانچ کروڑ فی کمپنی اور تنظمیم پر7 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیاکہ کھاد کی یکساں قیمتوں کا تعین کسانوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہوا،کاروباری و تجارتی تنظیمیں قیمتوں کا تعین نہیں کر سکتیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کمپیٹیشن کمیشن گٹھ جوڑ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔