فلپائن نے جنوبی کوریا سے ایف اے 50 لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
فلپائن (نیوز ڈیسک) فلپائن نے جنوبی کوریا سے ایف اے 50 لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کر لیا۔فلپائن نے اپنی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کیلیے جنوبی کوریا سے ایف اے 50 لڑاکا طیارے خریدنے کا بڑا معاہدہ کر لیا۔
العربیہ پر شائع خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جنوبیہ کوریائی کمپنی کوریا ایرو اسپیس انڈسٹریز نے فلپائن کے ساتھ معاہدہ ہونے کی تصدیق کر دی۔
کوریا ایرو اسپیس انڈسٹریز نے بتایا کہ فلپائن حکومت نے 12 سے زائد ایف اے 50 لڑاکا طیارے خریدنے کیلیے معاہدے پر دستخط کر دیے، معاہدہ 700 ملین ڈالر میں ہوا، طیارے کی فراہمی 2030 تک مکمل کی جائے گی۔
فلپائن حکومت نے اب تک معاہدے کی تصدیق نہیں کی لیکن اس نے 2014 میں کمپنی سے ایک درجن لڑاکا طیارے خریدے تھے۔
کوریا ایرو اسپیس انڈسٹریز نے جاری بیان میں بتایا کہ ایف اے 50 لڑاکا طیاروں میں فضائی ایندھن بھرنے اضافی رینج، (ایکٹو الیکٹرانک اسکینڈ اری) ریڈار اور فضا سے فضا جبکہ فضا سے زمین پر جدید ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔
فلپائن کا ایک طیارہ 4 مارچ 2025 کو اُس وقت لاپتا ہوگیا تھا جب وہ جنوبی جزیرے منڈاناؤ کے ایک پہاڑی علاقے میں مدد فراہم کرنے کے مشن پر تھا۔ بعد میں امدادی کارکنوں کو طیارے کا ملبہ اور عملے کے دو افراد کی لاشیں ملی تھیں۔
طیاروں کو عارضی طور پر گراؤنڈ کرنے کے بعد فلپائنی فضائیہ نے طیارے کے ساتھ کسی بھی میکانکی مسائل کو مسترد کیا تھا۔
ترجمان فضائیہ ماریا کونسیلو کاسٹیلو نے اپریل میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ اضافی ایف اے 50 طیاروں کی خریداری زیر غور ہے۔
ملیر جیل سے فرار مزید تین قیدی گرفتار، تعداد 94 ہوگئی، 122 تاحال فرار
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔