چین اور بیلا روس کو بالادستی کے خلاف مشترکہ طور پر مزاحمت کرنی چاہیے، چینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
چین اور بیلا روس کو بالادستی کے خلاف مشترکہ طور پر مزاحمت کرنی چاہیے، چینی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 4 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چینی صدر شی جن پھنگ نے بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو سے ملاقات کی ہے۔بدھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بقملاقات کے دوران صدر شی نے صدر لوکاشینکو کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ صدر شی نے زور دے کر کہا کہ چین اور بیلاروس حقیقی دوست اور اچھے ساتھی ہیں۔ دونوں فریق ہمیشہ خلوص اور اعتماد کے ساتھ باہمی تعلقات کو آگے بڑھاتے آئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان روایتی دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے، سیاسی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، اور تمام شعبوں میں تعاون جامع طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔
چین ہمیشہ سے چین-بیلاروس تعلقات کو اسٹریٹجک بلندی اور طویل مدتی نقطہ نظر سے دیکھتا اور فروغ دیتا رہا ہے، اور بیلاروس کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے تعلقات اور باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو مستحکم اور دور رس بنانے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کو اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر کثیرالجہتی فریم ورکس میں مزید ہم آہنگی اور تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے، بالادستی، جبر اور دھونس کے خلاف مشترکہ طور پر مزاحمت کرنی چاہیے، اور بین الاقوامی انصاف کا دفاع کرنا چاہیے۔
صدر لوکاشینکو نے کہا کہ یہ چین کا میرا 15واں دورہ ہے، اور ہر بار میں چین کی گہری دوستی اور گرمجوشی کو محسوس کرتا ہوں۔ بیلاروس چین کی طویل عرصے سے بڑے پیمانے پر حمایت اور مدد کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ بیلاروس چین پر انتہائی اعتماد کرتا ہے اور چین کے ساتھ تعلقات اور تعاون کو فعال طور پر آگے بڑھانے پر ثابت قدم رہے گا۔ بین الاقوامی معاملات میں چین کثیرالجہتی کا مضبوطی سے دفاع کرتا ہے، یکطرفہ پسندی اور پابندیوں کے دباؤ کی مخالفت کرتا ہے، جس نے دنیا کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔ بیلاروس اس کی بہت تعریف کرتا ہے اور چین کے ساتھ مل کر بین الاقوامی انصاف کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کی گوادر کو ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا کام تیز کرنے کی ہدایت تاریخ کے چوراہے پر کھڑے چین کی ترقی کی سمت ٹریڈنگ آرٹسٹ”،جو کہے کچھ اور کرے کچھ ،وہ زمانے میں اپنی پوزیشن کھو دے گا پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے کھلتے ہی نئی تاریخ رقم کردی رواں مالی سال تنخواہ دار طبقے کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے کا انکشاف وفاقی بجٹ 2025-26کی تیاریاں مکمل، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس طلب تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس ریلیف میں اہم پیشرفت، آئی ایم ایف شرح کم کرنے پر آمادہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔