نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کو ملاقات کی دعوت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
الیکشن کمیشن کے نئے چیف الیکشن کمشنر اور 2 ارکان (سندھ، بلوچستان) کی تقرری کے لیے باضابطہ مشاورت کا آغاز ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان کو ملاقات کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے انہیں خط ارسال کردیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور 2 ممبران کی آئینی مدت 26 جنوری 2025 کو مکمل ہو چکی ہے، تاہم انہوں نے آرٹیکل 215 کے تحت اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھی ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہ ہوئے تو وزیراعظم کو بھی طلب کرسکتے ہیں، چیف الیکشن کمشنر
وزیراعظم نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 218 کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور اراکین الیکشن کمیشن کی تقرری کے لیے تجاویز پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائی جاتی ہیں، لہٰذا اس آئینی عمل کے لیے اپوزیشن لیڈر کی مشاورت ناگزیر ہے۔
خط میں وزیراعظم نے عمر ایوب کو دعوت دی ہے کہ وہ جلد ملاقات کریں تاکہ اتفاق رائے سے موزوں نام تجویز کیے جا سکیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس سے بھیجے گئے خط میں ملاقات کی تاریخ اور ممکنہ ایجنڈے کی وضاحت بھی کی گئی ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں اس حوالے سے مشاورتی عمل تیز ہونے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت ختم ہوچکی، 26ویں ترمیم کے ذریعے چل رہے ہیں، بیرسٹر گوہر
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے وزیر اعظم کے خط کی تصدیق کردیاپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے وزیر اعظم کے خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے 16 مئی کو الیکشن کمیشن میں تعیناتیوں سے متعلق خط لکھا ہے۔ جلد پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھوں گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن کمیشن چیف الیکشن کمشنر عمر ایوب خان قائد حزب اختلاف وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن چیف الیکشن کمشنر عمر ایوب خان قائد حزب اختلاف وزیراعظم شہباز شریف چیف الیکشن کمشنر الیکشن کمیشن اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔