حکومت جعلی ادویات کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، وفاقی وزیر صحت
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال نے فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو حکومتی تعاون کا عزم کرتےہوئے مقامی سطح پر پیداوار کے لیے بھرپور کوششیں کرنے پر زور دیا اور کہا کہ حکومت جعلی ادویات کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی جہاں ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ بھی موجود تھے اور اس موقع پر مقامی پیدوار کی تیاری اور برآمدی مواقع ڈرگ رولز میں اصلاحات کا جائزہ بھی لیا گیا۔
ملاقات میں ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس(اے پی آئیز) کی مقامی پیداوار سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور افغانستان کے ساتھ باہمی تجارتی معاہدے اور اے پی آئی کی مقامی تیاری پر پیش رفت پر بھی بات چیت کی گئی۔
وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مشترکہ طور پر اے پی آئیز کی مقامی تیاری یقینی بنائیں گے تاکہ قیمتی زرمبادلہ کی بچت کی جا سکے، پاکستان کی فارما انڈسٹری میں بہت پوٹینشل ہے اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈریپ نَفتھا کریکر منصوبے کے قیام سے متعلق ایک جامع رپورٹ پیش کرے، یہ اقدام فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے ضروری خام مال کی خود کفالت کے حصول کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فارماسیوٹیکل صنعت کی مقامی سطح پر ترقی اور خود انحصاری کے لیے بھرپور اقدامات کررہے ہیں اور ہمیں مل کر اے پی آئیز کی مقامی پیداوار یقینی بنانا ہے تاکہ زرمبادلہ کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی ادویات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے مربوط اقدامات کرنا ہوں گے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جعلی ادویات کے خاتمے کے لیے حکومت پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے ایک جدید بار کوڈ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت ہر دوا پر بار کوڈ پرنٹ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بار کوڈ کے ذریعے مریض کسی بھی دوا کی اصل شناخت اور قیمت کی تصدیق با آسانی کر سکے گا، جعلی ادویات سے پاکستان کی ساکھ اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی شہرت بھی متاثر ہوتی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، فارما انڈسٹری اس سلسلے میں تمام تر ضروری اقدامات کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جعلی ادویات وفاقی وزیر نے کہا کہ کی مقامی کے لیے
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔