سمبڑیال الیکشن میں دھاندلا ہوا، سب کچھ پہلے سے طے تھا، شیخ وقاص اکرم
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
پی ٹی آئی راہنماؤں کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دھاندلی، غنڈہ گردی اور بدمعاشی کا بازار سرگرم کیا گیا، آر او دفتر کے سامنے چیف آرگنائزر پنجاب اور کارکنان نے احتجاج کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پی ٹی آئی راہنما شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ سمبڑیال میں الیکشن نہیں دھاندلا ہوا، سب کچھ پہلے سے طے تھا۔ پی ٹی آئی راہنما شیخ وقاص اکرم نے عالیہ حمزہ اور سمبڑیال کے امیدوار کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی، غنڈہ گردی اور بدمعاشی کا بازار سرگرم کیا گیا، آر او دفتر کے سامنے چیف آرگنائزر پنجاب عالیہ حمزہ اور کارکنان نے احتجاج کیا۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ سمبڑیال میں الیکشن نہیں دھاندلا تھا، اس الیکشن میں انتخابی عمل کو فالو نہیں کیا گیا، پولیس نے نظم و ضبط کا مظاہرہ نہیں کیا، پولیس پی ٹی آئی کے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالتی رہی۔راہنما تحریک انصاف نے کہا کہ پولیس نے ہمارے ووٹرز کو ڈرایا اور ہراساں کیا، بیلٹ باکسز بھرے ہوئے لائے گئے، بیلٹ باکسز تبدیل کیے گئے، ہمارے کیمپ اکھاڑ دیئے گئے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ گنتی ہمیشہ پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا گیا، گنتی مکمل ہونے کے بعد مصدقہ فارم پر پولنگ ایجنٹس کے دستخط ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمبڑیال انتخابات میں سب کچھ پہلے سے طے تھا، انتخابات میں پری پلان دھاندلی کی گئی، پولنگ سٹیشنز کو ٹارگٹ کرکے نون لیگ نے دھاندلی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شیخ وقاص اکرم نے پولنگ ایجنٹس نے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
فائل فوٹوڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےلاہور میں بلدیاتی الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جن میں 159 یونین کونسلز کا اضافہ کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں لاہور میں 274 یونین کونسلز تھیں۔
ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن لاہور کی ابتدائی فہرست کے مطابق راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسل قائم کی گئی ہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40 اور صدر کینٹ میں 29، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونین کونسل بنائی گئی ہیں۔
لاہور کے شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو جاری ہوگی۔