اجلاس میں طے ہوا کہ جب تک یہ اعتراضات دور نہیں کئے جاتے تب تک اس ایکٹ کو کسی طور پر بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ اعتراضات یہ ہیں کہ 1986ء سے تا ایں دم الائٹمنٹس پر پابندی کے باوجود وفاقی و صوبائی اداروں کے نام الاٹ شدہ ہزاروں کنال زمین کو منسوخ کئے بغیر قانونی تحفظ دینا عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سکردو میں مرکزی انجمن امامیہ بلتستان اور مرکزی انجمن امامیہ گلگت کا ایک مشترکہ اجلاس زیر صدارت صدر انجمن امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی منعقد ہوا جس میں علامہ سید راحت حسین الحسینی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اجلاس میں گلگت بلتستان کے مختلف سیاسی و سماجی ایشوز پر گفت و شنید ہوئی، بالخصوص لینڈ ریفارمز ایکٹ اور عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماوں کی گرفتاری پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں طے ہونے والے فیصلوں کی روشنی میں مرکزی انجمن امامیہ گلگت اور مرکزی انجمن امامیہ بلتستان کا یہ مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا کہ لینڈ ریفارمز ایکٹ میں گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے عوامی اعتراضات کو دور کیا جائے۔ گلگت بلتستان کے عوام کا موقف یہ ہے کہ دریا کے کنارے سے لے کر پہاڑ کی چوٹی تک کی زمین عوام کی ہے اور گلگت بلتستان کے عوام ہی ان زمینوں کے مالک ہیں۔ لہذا لینڈ ریفارمز ایکٹ کو عوامی حقوق کا محافظ ایکٹ بنانے کے لئے اس میں موجود اعتراضات کو دور کیا جائے۔

اجلاس میں طے ہوا کہ جب تک یہ اعتراضات دور نہیں کئے جاتے تب تک اس ایکٹ کو کسی طور پر بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ اعتراضات یہ ہیں کہ 1986ء سے تا ایں دم الائٹمنٹس پر پابندی کے باوجود وفاقی و صوبائی اداروں کے نام الاٹ شدہ ہزاروں کنال زمین کو منسوخ کئے بغیر قانونی تحفظ دینا عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ نیز الائٹس شدہ رقبہ جات کو تا حال مخفی رکھا گیا ہے۔ دس فیصد زمین کو سرکار کے نام مختص کرنے کے لئے جو شق رکھی گئی ہے وہ بھی عوامی حقوق کے تحفظ کی منافی ہے۔ زمینوں کے حوالے سے ضلعی سطح پر کمیٹی کے قیام کے لئے منتخب عوامی نمائندوں کی بے توقیری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو چئیرمین بنا کر مزید با اختیار بنانا نہ صرف عوامی حقوق سے روگردانی کا سبب ہوگا بلکہ منتخب عوامی نمائندوں کے وقار کو بھی مجروح کرنے کا باعث بنے گا۔ ایکٹ میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام پہاڑ عوامی ملکیت ہونگے مگر اس سے پہلے ہی حکومت نے ان تمام پہاڑوں کو آن لائن لیز کے ذریعے مختلف غیر مقامی لوگوں کے نام دے چکی ہے جس پر شدید تحفظات ہے۔

ایکٹ میں زمینوں کے حوالے سے ڈسڑکٹ بورڈ کے فیصلے کو حتمی قرار دے کر سول عدالتوں میں جانے سے روکنے کے لئے جو قانون وضع کیا گیا ہے وہ بھی پاکستانی آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ گورنر گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس بل کو واپس اسمبلی میں بھیج دیں اور ان تمام اعتراضات کو دور کرنے کے بعد ایکٹ کو حتمی شکل دیا جائے بصورت دیگر عوام اس ایکٹ کے خلاف تحریک چلانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ اجلاس میں مزید کہا گیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض اراکین کو عوامی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کی پاداش میں بلاجرم و خطا گرفتار کیا گیا ہے لہذا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ان گرفتار شدہ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات کو ختم کیا جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ درج بالا مطالبات پر غور نہ ہونے اور عملی اقدامات نہ کرنے کی صورت میں ہم یہ حق محفوظ رکھتے ہیں کہ وہ احتجاجی اقدامات کرنے پر مجبور ہو جائیں، لہذا درج بالا مطالبات کو حکومتی ارباب فوری طور پر حل کریں بصورت دیگر حکومت کو سخت عوامی رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مرکزی انجمن امامیہ لینڈ ریفارمز ایکٹ گلگت بلتستان کے عوامی حقوق اجلاس میں کیا جائے کمیٹی کے ایکٹ کو کیا گیا کے لئے کے نام

پڑھیں:

حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

 حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار