اسلام آباد، دیامر ڈیم متاثرین کے مسائل کے حل کیلئے اعلیٰ سطح کا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے شرکاء کو یقین دہانی کرائی کہ متاثرین کے جائز مطالبات کو خلوص نیت اور باہمی رضامندی سے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ اجلاس اس وژن کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر دیامر بھاشا ڈیم متاثرین کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے وزارت امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران، انجینئر امیر مقام نے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان اور چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی نے شرکت کی۔ اعلیٰ بیوروکریٹس، بشمول چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا، سیکریٹری امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران ظفر حسن اور سیکریٹری آبی وسائل سید علی مرتضیٰ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کے نمائندے بھی اجلاس میں موجود تھے تاکہ وہ براہ راست وفاقی قیادت کے سامنے اپنے مطالبات پیش کر سکیں۔
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے شرکاء کو یقین دہانی کرائی کہ متاثرین کے جائز مطالبات کو خلوص نیت اور باہمی رضامندی سے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ اجلاس اس وژن کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کی حکمت عملی کی بنیاد شفافیت، شمولیت اور عوامی مفادات پر ہے تاکہ ملک کے سب سے بڑے پن بجلی منصوبے کے لیے قربانی دینے والوں کو مکمل عزت اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گلگت بلتستان کے عوام کے کردار اور ان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل وفاقی سطح پر تسلیم کیے جا چکے ہیں۔ مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف کے اس مسئلے کے حل کے پختہ عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ درست وقت ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور وزیراعظم کی فیصلہ کن قیادت سے فائدہ اٹھائیں۔
وفاقی وزیر معین وٹو نے ڈیم سے متاثرہ آبادی کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت کے غیر متزلزل عزم کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی واضح ہدایات کے تحت ہم معاوضوں کی ادائیگی، صاف پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی، اسکولوں اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کی تعمیر میں عملی پیش رفت کر رہے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر متاثرین کے مسائل کو پائیدار اور شفاف انداز میں حل کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف گلگت بلتستان وفاقی وزیر متاثرین کے حل کے لیے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ ،مون سون کی تباہی، لیکن ذمہ دار کون؟
گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ ،مون سون کی تباہی، لیکن ذمہ دار کون؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 July, 2025 سب نیوز
تحریر عنبرین علی
گلگت بلتستان، قدرتی حسن سے مالامال، لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے ایک اور شناخت لے کر ابھر رہا ہے: ماحولیاتی تباہی کا شکار خطہ۔ مون سون کے حالیہ اسپیل میں گلگت میں شدید بارشوں کے نتیجے میں کئی علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں، پل بہہ گئے، سڑکیں ٹوٹ گئیں، اور درجنوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔ گلگت سے قبل آنے والا خوبصورت بابو سر ٹاپ اسوقت اموات کا گڑھ بن رہا ہے گزشتہ تین روز سے راستہ بند جبکہ بیشتر سیاح وہاں ہیوی فلڈ نگ کی نظر ہو چکے ہیں ،انکئ تلاش اب بھی جاری ہے ، چلاس میں بھی مون سون بارشوں نے تباہی مچا کر رکھ دی ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس تباہی پر حکومتی ردِ عمل کہاں ہے؟ اور ذمہ دار ادارے خاموش کیوں ہیں؟کیا سارا کا سارا ملبہ مون سون بارشوں پر ڈالنا درست ہے یا پھر گلگت حکومت بھی اس کی ذمہ دار ہے ؟؟
یہ کہنا کافی نہیں کہ “قدرتی آفت” تھی۔ یہ سچ ہے کہ بارشیں شدید تھیں، لیکن کیا اس شدت کی پیش گوئی پہلے سے موجود نہیں تھی؟ محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کیا، مقامی صحافیوں نے وی لاگز میں بار بار خطرے کی نشاندہی کی، مگر نہ نالوں کی صفائی ہوئی، نہ حفاظتی بند بنائے گئے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت نے آنکھیں بند کر رکھی ہوں۔اور ہر بار سیاحوں کو لینڈ سلائیڈنگ کی نظر کر دیا ہو یہ سچ ہے کہ ہم قدرتی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتے ؟مگر کیا ہم بالکل آنکھیں بند کر دیں یا احتیاطی تدابیر اپنائیں ؟بیرونی ممالک میں بھی مون سون کے خطرات آئے مگر بروقت کچھ انتظامات کیے گئے اور زیادہ نقصان سے خود کو بچایا گیا ۔
اب آتے ہیں گلگت میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بری طرح متاثر ہونے کی طرف،کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اچانک گلگت میں موسمیاتی تبدیلیاں آگئیں ؟آجکل اچانک بادلوں کا پھٹ جانا ،لینڈ سلائیڈنگ اور گلاف ،اور آخر میں تمام شمالی علاقہ خطرے کی زد میں ہےاسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ پندرہ سے بیس سالوں میں گلگت میں جنگلات کا قتل عام تیزی سے ہوا ہےآج قدرت نے انتقام لینا ہی تھا ۔
جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے بعد بھی کچھ جنگلی چیڑ اور دھاڑ کے درخت رہ گئے تقریبا دس لاکھ درخت کاٹنے کے لیے وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے منظور دی،وزیراعلی خود جنگلات کٹوانے کی منظوری دیتے ہیں اور ٹمبر مافیا کے ساتھ مل کر جنگلات کی لکڑی کو باہر ایکسپورٹ کرواتے ہیں اور سیاست چمکاتے ہیں ۔اسوقت دیامر ڈسٹرکٹ میں بھی وزیر اعلی گلگت بلتستان نے درختوں کی کٹائی کی منظوری دے رکھی ہے ۔جبکہ جی بی عوام بھی اس سے باخبر ہے
وزیر اعلی کے اس ناجائز اقدام کے بعد اسوقت پورا گلگت بری طرح سیلاب کی زد میں ہے لیکن تا حال انھوں نے درختوں کی کٹائی کا فیصلہ واپس نہیں کیا ۔ایسے میں مون سون بارشیں اپنا اثر نہ دکھائیں گی تو کیا کریں گی۔
سیلاب سے قبل گلگت کے مقامی لوگ چیختے رہے کہ سیلاب آئے گا مقامی افراد نے سوشل میڈیا پر آواز اٹھائ مگر حکمران ٹمبر مافیا کے ساتھ مل کر اپنا کام جاری رکھتے رہے،اور اب پچھلے کوئی روز سے گلگت سیلابی ریلوں کی لپیٹ میں ہے مگر اب بھی حکمران خاموش ہیں ۔سوال یہ ہے کہ اب گلگت کون بچائے گا؟۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور بنگلا دیش کا سفارتی و سرکاری پاسپورٹ پر ویزا فری انٹری دینے کا فیصلہ عقیدہ اور قانون میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس حیثیت غیرت کے نام پر ظلم — بلوچستان کے المیے پر خاموشی جرم ہے آبادی پر کنٹرول عالمی تجربات اور پاکستان کے لیے سبق حلف، کورم اور آئینی انکار: سینیٹ انتخابات سے قبل خیبرپختونخوا اسمبلی کا بحران اور اس کا حل موسم اور انسانی مزاج کا تعلق چینی مافیا: ریاست کے اندر ریاستCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم