امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 ممالک پر سفری پابندی عائد کردی، کونسے ممالک شامل؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک نیا صدارتی حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت 12 ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ان ممالک میں افغانستان، ایران، یمن، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، ہیٹی، اریٹریا، میانمار، چاڈ، جمہوریہ کانگو، اور ایکویٹوریل گنی شامل ہیں۔ اس پابندی کا اطلاق پیر سے ہو گا۔
صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو کولوراڈو کے شہر بولڈر میں ایک یہودی احتجاج پر ہونے والے حملے کے بعد ضروری قرار دیا، جس میں مشتبہ حملہ آور محمد صبری سلیمان کو غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم قرار دیا گیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے ہجوم پر آتش گیر مواد اور پٹرول چھڑک کر حملہ کیا۔
اس کے علاوہ 7 ممالک پر جزوی سفری پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں، جن میں برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ بولڈر میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے نے ثابت کر دیا ہے کہ غیر جانچے پرکھے غیر ملکی شہری ہمارے ملک کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ہم ایسے افراد کو یہاں نہیں چاہتے۔
انہوں نے نئی پابندیوں کا موازنہ اپنی 2017 کی پہلی مدتِ صدارت میں لگائی گئی ’طاقتور‘ سفری پابندیوں سے کیا، جنہیں اُس وقت دنیا بھر میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اُس وقت کی پابندیوں نے امریکہ کو ان دہشت گرد حملوں سے محفوظ رکھا جو یورپ میں ہوئے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ نئے اقدامات ان ممالک پر لاگو کیے گئے ہیں جو مناسب ویزہ چھان بین، شناختی معلومات کی فراہمی، یا پاسپورٹ تصدیق کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ خاص طور پر افغانستان، یمن، لیبیا، صومالیہ اور سوڈان کو اس فہرست میں “غیر مستحکم اور ناقابلِ اعتماد” قرار دیا گیا ہے۔
ایران کو “دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ریاستی ملک” قرار دیتے ہوئے بھی شامل کیا گیا ہے، باوجود اس کے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔
وینزویلا کے وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو نے امریکی اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا:
“امریکہ میں موجودگی وینزویلا کے شہریوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔”
یہ نیا حکم نامہ اچانک جاری کیا گیا، جب ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران تقریباً 3,000 سیاسی مقرّرین سے خطاب کیا۔ حیران کن طور پر، اعلان کے وقت کوئی بھی صحافی موجود نہیں تھا، حالانکہ اس سے قبل ٹرمپ اکثر ایسی پالیسیوں کا اعلان صحافیوں کے سامنے کیا کرتے تھے۔
وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری ایبیگیل جیکسن نے X (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا:
“صدر ٹرمپ امریکی عوام کو ان غیر ملکی عناصر سے بچانے کے اپنے وعدے پر عمل پیرا ہیں جو ہمارے ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔”
ٹرمپ نے علیحدہ طور پر ہارورڈ یونیورسٹی آنے والے غیر ملکی طلباء پر ویزہ پابندی کا بھی اعلان کیا ہے، جسے ناقدین نے “لبرل اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن” سے تعبیر کیا ہے۔
یہ نئی پابندیاں بھی ممکنہ طور پر قانونی چیلنجز کا سامنا کر سکتی ہیں، جیسا کہ ٹرمپ کی متعدد سابقہ پالیسیاں کر چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ڈونلڈ ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔