چین کے سمندری تحفظ اور پائیدار ترقی سے متعلق اقدامات
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
چین کے سمندری تحفظ اور پائیدار ترقی سے متعلق اقدامات WhatsAppFacebookTwitter 0 5 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ : اس سال کے عالمی یوم سمندر کے موقع پر ،آئیے سمندر کے ایک “اصلی باشندے” کچھوے کے قریب جاتے ہیں ۔چین کے صوبہ گوانگ دونگ کےشہر حوئی چو میں ایک جگہ ہے جسے سمندری کچھوے کا پسندیدہ مقام کہا جا سکتا ہے ۔ ہر سال جون سے اکتوبر تک سمندری کچھوے کی ایک بڑی تعداد یہاں افزائش نسل کے لیے آتی ہے۔ یہ حوئی دونگ پورٹ سی ٹرٹل نیشنل نیچر ریزرو ہے، جو چائنیز مین لینڈ میں سمندری کچھوؤں کا واحد نیچر ریزرو ہے۔تاہم یہاں کچھوؤں کو کچھ خطرات کا سامنا بھی رہا ہے۔ روشنی کی آلودگی سمیت انسانی سرگرمیوں نے کچھوؤں کے ساحل پر انڈے دینے میں رکاوٹیں کھڑی کیں، دوسری جانب پھینکے گئے ماہی گیری کے جال، پلاسٹک فضلہ وغیرہ نے بھی کچھوؤں کی بقا کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا تھا۔
ان سمندری مخلوقات کی حفاظت کے لیے ریزرو نے سخت ماحولیاتی کنٹرول نافذ کیا ہے۔ ایسی پیداواری سرگرمیوں کی مکمل طور پر ممانعت ہے جو سمندری کچھوؤں کی افزائش کو متاثر کرتی ہیں، اور اختراعی طور پر ماحولیاتی سیاحت اور سائنسی تعلیم کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
ریزرو عملے، رضاکاروں اور مقامی ماہی گیروں کے مشترکہ تحفظ کے تحت، کچھوؤں کی افزائش نسل ، تعداد اور بقا کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور اس علاقے میں سیاحت کو بھی ترقی ملی ہے۔ ماہی گیروں نے بہتر حیاتیاتی ماحول اور معاشی آمدنی دونوں پہلوؤں سے ثمرات حاصل کیے، جس سے ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی کے درمیان ہم آہنگی کا ماڈل قائم ہوا ہے۔سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے مذکورہ علاقے میں تبدیلیاں چین کے سمندری تحفظ اور پائیدار ترقی کی ایک جھلک ہے۔ سمندری ماحولیاتی تحفظ کے قانونی نظام کو مسلسل بہتر بنانے سے لے کر سمندری ماحولیاتی بحالی کے منصوبوں کو فروغ دینے تک ، سمندر میں سیوریج آؤٹ لیٹس کی سخت نگرانی سے لے کر سمندری کچرے کی صفائی تک، چین بنی نوع انسان کے مشترکہ سمندر کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ بحیرہ جنوبی چین کی مثال لیں ، چین نے وہاں مرجان کی چٹانوں کی ماحولیاتی نگرانی کا نیٹ ورک قائم کیا اور سانشا کے پانیوں میں 1 لاکھ مربع میٹر سے زیادہ مرجان کی چٹانوں کی بحالی کی ہے۔جزیرہ یونگ شنگ جیسے جزائر اور چٹانوں پر، چین نے ہوا کی شدت اور ریت سے بچنے کے لیے پودے لگائے ، جو جزائر اور چٹانوں کے حیاتیاتی ماحول کو مؤثر طریقے سے بہتر بنا رہے ہیں اور سمندری حیات کے لیے بہتر رہائش گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔سمندر نہ صرف زندگی کا سرچشمہ ہے بلکہ معاشی ترقی کے لیے نیلا انجن بھی ہے۔
یہ ماہی گیری اور توانائی کے وسائل کا ذخیرہ ہے، عالمی تجارت کے لیے آبی راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔ لہذا، سمندری ماحول کی حفاظت کرتے ہوئےسمندری وسائل کے پائیدار استعمال اور سمندری معیشت کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینا بنی نوع انسان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس سلسلے میں، چین نے “ماحولیات پلس سمندری معیشت” کے پائیدار ترقیاتی ماڈل کی تعمیر کے لیے بھی کئی اقدامات کیے ہیں، جیسے ماہی گیری پر عارضی پابندی کا نظام نافذ کرنا، سمندری ماہی گیری اور جہاز سازی کی ذہین اور سبز ترقی کو فروغ دینا، آف شور ونڈ پاور، میرین بائیو میڈیسن اور قدرتی گیس ہائیڈریٹ ڈویلپمنٹ سمیت ابھرتی ہوئی صنعتوں کو ترقی دینا ،وغیرہ۔سمندر میں بے شمار جزیرے ہیں، مگر پانی سب کو دوبارہ جوڑ دیتا ہے۔ انسانوں کا پھینکا ہوا پلاسٹک کا کچرا ساحلوں پر جمع ہوتا ہے ، سمندر کے پانی میں گل کرمچھلیوں اور پرندوں کے پیٹ میں جاتا ہے اور پھرانسانوں کی میزوں پر واپس آ سکتا ہے۔ ایک بندرگاہ میں لیک تیل دوسری بندرگاہ تک پہنچ سکتا ہے۔ جوہری آلودہ پانی کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگائے بغیر چھوڑ دیا جائے تو پورے سمندر کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی باعث، سمندر کے تحفظ میں ہر ایک کی کوششوں کی ضرورت ہے۔
چین بلیو پارٹنرشپ کی تعمیر کو فعال طور پر فروغ دے رہا ہے، بین الاقوامی سمندری قوانین سے متعلق مشاورت میں گہرائی سے حصہ لے رہا ہے، 21ویں صدی کی میری ٹائم سلک روڈ سے متعلق ممالک کے ساتھ تعاون کے طریقہ کار کو بہتر بنارہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ، گہرے سمندر میں اسٹریٹجک وسائل، حیاتیاتی وسائل اور قطبی علاقوں کی سائنسی تحقیقات اور تحفظ میں بین الاقوامی تعاون کو فعال طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔پاکستان میں چین کی مینگروو انسداد آلودگی ٹیکنالوجی نے نہ صرف ساحلی آبی علاقوں کی ماحولیاتی بحالی میں کامیابی سے مدد کی ہے بلکہ ماہی گیروں کی روزی روٹی کے لیے ایک مزید پائیدار حل بھی فراہم کیا ہے۔ اس کے علاوہ، دونوں فریقوں نے سمندری سائنسی تحقیق، سمندری ماحولیاتی تحفظ اور سمندری سلامتی جیسے شعبوں میں وسیع اور گہرے تعاون کو فروغ دیا ہے۔
یہ تعاون سمندری ماحول کے تحفظ، سمندری وسائل کے پائیدار استعمال اور سمندری معیشت کی معیاری ترقی کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھا رہا ہے، جس سے انسانیت اور نیلے سمندر کے درمیان ہم آہنگی کا رقص جاری ہے۔” سمندر کی فکر کریں، سمندر کو پہچانیں، سمندر کو سنواریں”۔یہ چینی صدر شی جن پھنگ کی ہدایات ہیں۔ چین منظم انتظامی منصوبوں اور جدید ترقیاتی ماڈلز کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی کا نیلا باب رقم کیا جا سکے اور بنی نوع انسان کے نیلے مستقبل کی حفاظت کی جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبریہ “منفی 1.5” دنیا کی جانب سے ٹیرف دھونس بازوں کے لئے ایک انتباہ ہے، رپورٹ یہ “منفی 1.5” دنیا کی جانب سے ٹیرف دھونس بازوں کے لئے ایک انتباہ ہے، رپورٹ چینی ساختہ AES100 ہوائی انجن کو پروڈکشن لائسنس جاری چین میں مجموعی طور پر 101 نئے بین الاقوامی فضائی کارگو روٹس کا آغاز چین، قومی ہائی ٹیک زونز میں نامزد سائز سے بالا صنعتی اداروں کی آمدنی 10 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گئی غیر قانونی سگریٹ انڈسٹری کا پھیلائو خطرناک، ریونیو میں کمی ہوئی ہے ، اسد شاہ تعطیلاتی معیشت ، چینی معیشت کی لچک اور قوت محرکہ کا عمدہ مظہر
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پائیدار ترقی تحفظ اور چین کے
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔