ڈبل کیبن گاڑی سمندر میں ڈوب گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
کراچی میں سی ویو کے مقام پر سمندرمیں ڈبل کیبن گاڑی ڈوب کر الٹ گئی، حادثے کے کئی گھنٹوں بعد ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے گاڑی کو نکال لیا۔
رپورٹ کے مطابق بوٹ بیسن تھانے کے علاقے سی ویو پرسمندرمیں ڈبل کیبن گاڑی ڈوبی، گاڑی ڈوبنے کی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پرپہنچ گئی اورریسکیوٹیم نے گاڑی کو نکالا۔
ایس ایچ اوبوٹ بیسن محمد ریاض نیازی نے بتایا کہ ڈبل کیبن گاڑی مہران سومرو نامی شہری کی ملکیت ہے اور شہری صفورا اسکیم 33 کا رہائشی ہے۔
مہران سومرو نامی شہری بدھ اورجعمرات کی درمیانی شب فیملی کے ہمراہ سی ویو آیا تھا اور اپنی گاڑی سمندر کنارے لے گیا تھا۔
سمندر کا پانی چڑھنے اوراونچی لہروں کے باعث گاڑی پانی میں ڈوب کر الٹ گئی، جمعرات کی دوپہر ریسکیو 1122 کو موقع پرطلب کیا گیا۔
گاڑی کو نکالنے کے دوران رسی ٹوٹنے سے ریسکیو 1122 کا ایک اہلکار معمولی زخمی بھی ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ حادثے میں ڈبل کیبن گاڑی کو نقصان پہنچا ہے جبکہ گاڑی سوار تمام افراد محفوظ رہے، حادثے سے متعلق مزید بھی معلومات لی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈبل کیبن گاڑی ریسکیو 1122 گاڑی کو
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔