Islam Times:
2026-06-03@03:02:05 GMT

غزہ میں مزید 3 فلسطینی صحافیوں کی شہادت

اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT

غزہ میں مزید 3 فلسطینی صحافیوں کی شہادت

‍‍‍‍‍‍

گذشتہ شب غزہ میں جنگ بندی پر مبنی سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی نسل کشی میں اپنی عملی شراکت کے امریکی اعلان کے بعد غاصب صیہونیوں نے آج المعمدانی ہسپتال سمیت غزہ کے مختلف علاقوں پر شدید حملے کئے ہیں اسلام ٹائمز۔ مقامی میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کے المعمدانی ہسپتال پر ہونے والے سفاک اسرائیلی رژیم کے تازہ انسانیت سوز حملوں میں مزید 4 فلسطینی صحافی شہید ہو گئے ہیں۔ فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں فلسطین الیوم کے صحافیوں سلیمان حجاج اور اسمعیل بدح سمیت شمس نیوز کے رپورٹر سمیر الرفاعی بھی شہید ہوئے ہیں۔ المعمدانی ہسپتال کے احاطے پر ہونے والی اسرائیلی بمباری کے دوران العربی ٹی وی کے رپورٹر احمد قلجہ اور فلسطین ٹوڈے کے رپورٹر عماد دلول شدید زخمی ہوئے ہیں جبکہ عماد دلول کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ قطری چینل العربی نے اپنے صحافی کے زخمی ہونے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی اس وقت تاریخ بھر میں صحافیوں کی سب سے بڑی نسل کشی کا مشاہدہ کر رہی ہے۔
العربی کے مطابق سفاک اسرائیلی رژیم نے غزہ کے خلاف اپنی انسانیت سوز جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ کی پٹی میں 115 صحافتی مراکز کو تباہ کیا ہے۔ ادھر فلسطینی صحافیوں کی تنظیم نے بھی اپنے بیان میں اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ اسرائیل اپنے جرائم کو چھپانے کے لئے غزہ میں صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے!
-

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان