مسئلہ کشمیر کے حل سے دیگر تنازعات کے راستے بھی ہموار ہو سکتے ہیں، راجہ مظفر
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے، راجہ مظفر نے 1964ء سے معطل سہ فریقی مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا تاکہ بامعنی بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ سینئر کشمیری رہنما اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے قائم مقام چیئرمین راجہ مظفر نے بھارت اور پاکستان کے امریکا میں موجود وفود سے خطے کے دیرپا امن کے لیے پُرامن حل کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے بھارتی وفد کے سربراہ ششی تھرور اور پاکستانی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کے نام اپیل کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت پر زور دیا کہ حوصلے اور دوراندیشی کے ساتھ آگے بڑھیں، کیونکہ اس وقت کی گئی جرات مندانہ قیادت مستقبل کا رخ بدل سکتی ہے۔ کشمیر کو برادرانہ تعلقات کی بنیاد قرار دیتے ہوئے راجہ مظفر نے کہا کہ کشمیر میں پائیدار امن ہی وہ کنجی ہے جو اس مسئلے کے حل کی کھڑکی کھول سکتی ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا حل بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے حل سے دیگر تنازعات کا راستہ بھی ہموار ہو سکتا ہے۔تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے، راجہ مظفر نے 1964ء سے معطل سہ فریقی مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا تاکہ بامعنی بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کشمیریوں کی آزادی کی امنگوں کے نمائندے کے طور پر یاسین ملک کو تسلیم کیا جائے اور شیخ عبداللّٰہ کے ساتھ ماضی میں ہونے والے مذاکرات کی طرز پر بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ راجہ مظفر نے دونوں ممالک کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ انتہا پسندی سے کنارہ کشی اختیار کریں اور مکالمے کو کامیابی کا واحد راستہ سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ہم ایک پُرامن اور خوشحال مستقبل کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔