لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 جون ۔2025 ) بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے چناب کے بہاﺅ میں مزید کمی آگئی ہے رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز کے مقابلے میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد میں 5 ہزار 700 کیوسک کی مزیدکمی آئی ہے، جس کے بعد پانی کی آمد 19 ہزار 300 اور اخراج 3 ہزار کیوسک ہے.

واپڈا کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 25 ہزار کیوسک تھی، ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں 3 جون کو پانی کی آمد 34 ہزار 100کیوسک اور ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں 2 جون کو پانی کی آمد 38 ہزار 600 کیوسک تھی.

(جاری ہے)

ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں 31 مئی کو پانی کی آمد 7 ہزار 200 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک تھا واپڈا کے اعلامیہ کے مطابق آج تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 76 ہزار 800 اور اخراج ایک لاکھ 55 ہزار کیوسک ہے، منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 33 ہزار 800 اور اخراج 35 ہزار کیوسک ہے. واضح رہے کہ 31 مئی 2025 کو بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے چناب کے بہاﺅمیں مزید کمی ہوگئی تھی اور30 مئی کے مقابلے ہیڈ مرالہ میں دریائے چناب کے مقام پر پانی کی آمد میں 37 ہزار 600 کیوسک کی مزید کمی ریکارڈ کی گئی تھی ہیڈمرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کا اخراج صفر کیوسک ہوگیا تھا.

ہیڈمرالہ میں دریائے چناب کے مقام پر دو روز میں پانی کی آمد میں 91 ہزار کیوسک کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی چشمہ بیراج میں پانی کی آمدایک لاکھ 94 ہزار 900 اور اخراج ایک لاکھ 80 ہزار کیوسک ہے، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 23 ہزار 100 اور اخراج 23 ہزار 100 کیوسک تھا. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پانی کی آمد میں میں پانی کی آمد دریائے چناب کے ہزار کیوسک ہے اور اخراج کیوسک کی

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان