بھارت کی آبی دہشتگردی، ملک میں قابل استعمال پانی کا ذخیرہ ایک لاکھ 61 ہزار ایکڑ فٹ کم ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
بھارت کی آبی دہشتگردی، ملک میں قابل استعمال پانی کا ذخیرہ ایک لاکھ 61 ہزار ایکڑ فٹ کم ہوگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 5 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) بھارت کی آبی دہشت گردی بدستور جاری ہے، بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے چناب کے بہاؤ میں مزید کمی ہوگئی۔
ترجمان واپڈا کے مطابق بھارت کی جانب سے دریائے چناب کے پانی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ جاری ہے، جس کے باعث دریا چناب میں پانی کی آمد میں آج مزید 6 ہزار کیوسک کی کمی ہوگئی۔
بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے چناب پانی کی امد 19 ہزار300 کیوسک ہوگئی،2 روز قبل دریائے چناب میں پانی کی آمد 38 ہزار کیوسک تھی۔
دوسری جانب ڈیموں میں پانی کے ذخائر میں بھی مسلسل کمی کا سلسلہ جاری ہے، ملک میں قابل استعمال پانی کا ذخیرہ ایک لاکھ 61 ہزار ایکڑفٹ کم ہوگیا، قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 40لاکھ 44ہزار ایکٹر فٹ پر آگیا۔
ترجمان واپڈا کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں 4600 کیوسک کمی،76800 کیوسک ہوگئی، جہلم میں 600 کیوسک اضافے کے بعد پانی کی آمد 33800 کیوسک ہے، چشمہ بیراج میں بھی پانی کی آمد میں 3700 کیوسک کی کمی ریکارڈ کی گئی، دریا کابل میں بھی پانی کی آمد میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
یاد رہے کہ 31 مئی تک بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے چناب کے بہاؤ میں بڑی کمی ہوئی تھی، واپڈا کے اعداد و شمار کے مطابق دریائے چناب میں پانی کی آمد میں 30 سے 31 مئی کے دوران 91 ہزار 600 کیوسک کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی قرارداد ویٹو ہونے سے بہت خطرناک پیغام جائے گا، پاکستانی مندوب سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی قرارداد ویٹو ہونے سے بہت خطرناک پیغام جائے گا، پاکستانی مندوب ن لیگ کی بڑی وکٹ گرنے کو تیار، اہم رہنما کو پی ٹی آئی میں شمولیت کا سگنل مل گیا پاکستانی بھینسوں کے جنین سے بچھڑوں کی پیدائش کےذریعے چین کی ڈیری صنعت کو فروغ ملے گا حج کارکنِ اعظم وقوف عرفہ آج ادا کیا جائے گا ڈیفنس تشدد کیس: متاثرہ نوجوان نے ملزم سلمان فاروقی کو معاف کردیا شملہ معاہدہ ختم، سیز فائر لائن اور ایل او سی کی حیثیت پر بات کرنا ہوگی، 1948 والی پوزیشن پر آگئے، وزیردفاعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قابل استعمال پانی کا ذخیرہ بھارت کی
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم