بانی پی ٹی آئی نے ورکرز کو قربانی کیلئے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے: زرتاج گل
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن قومی اسمبلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ورکرز کو قربانی کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زرتاج گل نے کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اخلاقیات بالکل ختم ہوچُکی ہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کے سیل کو تالے لگائے گئے ہیں، ان سے ملاقات نہیں کرنے دیتے۔
پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ حکومت کو کہنا چاہتی ہوں کہ آپ نے ظلم کا ہر ضابطہ توڑا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی غیرسیاسی خاتون ہیں، اس کے باوجود بھی ان سے ملنے نہیں دیا جاتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔