عیدالاضحیٰ پر گیس کی فراہمی، سوئی سدرن گیس نے شیڈول جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
عیدالاضحیٰ کے موقع پر سوئی سدرن گیس نے گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے شیڈول جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالاضحیٰ پر ٹرین کا سفر کرنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری
سوئی سدرن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 6 جون کو گیس کی بندش رات 12 بجے ہوگی، عید کے پہلے دن (بروز ہفتہ 7 جون) گیس کی فراہمی صبح 5 بجے بحال ہو گی.
عید کے پہلے دن 5 بجے کے بعد گیس کی بندش نہیں ہوگی، اس کے علاوہ عید کے دوسرے دن اتوار 8 جون کو سارا دن گیس بند نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالاضحیٰ: اسلام آباد میں ون ویلنگ، ہوائی فائرنگ اور غیرقانونی اسلحے کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
عید کے تیسرے دن 9 جون کو رات 12 بجے تک پورا دن گیس کی فراہمی بحال رہے گی، منگل 10 جون سے پرانے شیڈول کے مطابق گیس کی فراہمی کے اوقات کار بحال ہوجائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news سوئی سدرن عیدالاضحیٰ گیس بندش
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عیدالاضحی گیس بندش گیس کی فراہمی عید کے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔