فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے گزشتہ ہفتے ملک کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، پرنسپلز اور سینئر اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں پیغام دیا ہے کہ پانی ہماری ریڈ لائن ہے اور 24 کروڑ پاکستانیوں کے بنیادی حقوق پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ انھوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ کشمیر کبھی نہیں چھوڑیں گے، کشمیر کا کوئی بھی سودا ممکن نہیں ہے۔ بھارت جان لے کہ کشمیر کو ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔
فیلڈ مارشل نے بجا طور پر یہ کہا کہ ہندوستان نے کئی دہائیوں سے کشمیر کے مسئلے کو دبانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا اور اب یہ اس کے لیے ممکن ہی نہیں رہا۔ دہشت گردی اور اقلیتوں کے خلاف بھارت کے جارحانہ اقدام کو عالمی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی انڈیا کا اندرونی مسئلہ ہے جس کی بنیادی وجہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر بڑھتا ہوا ظلم و تعصب پسندی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی آج بھی ایک بڑی تعداد لگ بھگ 20 کروڑ سے زائد رہائش پذیر ہے۔ جو ہندو توا کے پرستار اور متعصب بھارتی وزیر اعظم اور ان کے ہم خیالوں کے ظلم و جبر کا شکار ہیں۔
انڈیا میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتیں سکھ اور عیسائی بھی انتہا پسند مودی حکومت کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ گجرات اور آسام میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے خون آشام واقعات کو کون بھول سکتا ہے۔ جہاں مسلمانوں کی دکانوں و مکانوں کو آگ لگا کر ہنستے بستے گھروں کو اجاڑ دیا جاتا ہے۔ بھارت میں برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت گزشتہ سات دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور بربریت و سفاکی کی جو خون آلود داستان رقم کر رہی ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
انڈیا کی 7 لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے۔ اپنی آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے ایک لاکھ کے لگ بھگ کشمیری نوجوان، بزرگ، مائیں، بہنیں اور بچے اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں لیکن بھارت کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی منظورکردہ قراردادوں کے مطابق انھیں حق خود ارادیت دینے پر آمادہ نہیں ہے۔
قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، اسی لیے پاکستان اول دن سے کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد کرتا چلا آ رہا ہے۔ پاکستان ہر عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کا مقدمہ پوری شد و مد کے ساتھ پیش کرتا ہے لیکن بدقسمتی یہ کہ یہ تنازعہ آج تک حل نہ ہو سکا۔ گزشتہ سات دہائیوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکریٹری سے لے کر وزرائے اعظم تک کی سطح کے درجنوں مذاکرات ہو چکے ہیں۔ کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا جس کی بنیادی وجہ بھارتی رہنماؤں کی غیر سنجیدگی و ہٹ دھرمی اور تنازع کشمیر کے حل سے دانستہ فرارکی کوشش ہے، لیکن پاکستان واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کشمیر کو کبھی نہیں بھول سکتا۔
حالیہ پاک بھارت جنگ نے کشمیر کے تنازع کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر کردیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے حل کے لیے اپنی ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ افسوس کہ بھارتی وزیر اعظم مودی نے اس پر کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا۔ بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث عناصر فتنۃ الہندوستان ہیں ان کا بلوچوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلوچ قبیلے تو اپنے ہی مسائل میں گرفتار ہیں۔ وہ محب وطن اور قوم پرست ہیں۔ حکومت ان کے مسائل کے حل کی طرف توجہ مرکوز کرے تو جلد ہی بلوچستان میں منفی رجحانات کا خاتمہ ہو جائے گا۔
بھارت معصوم بلوچ نوجوانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی جو سازش اپنی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے کر رہا ہے، اس کا قلع قمع کرنا ازبس ضروری ہے۔ اس ضمن میں افغانستان سے یہ اچھی خبر آئی ہے کہ طالبان کمانڈر سعید اللہ سعید نے فتنۃ الخوارج کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا ہے کہ امیر کے حکم کے خلاف کسی بھی ملک بالخصوص پاکستان میں جا کر لڑنا جائز نہیں۔ اس عمل کو فساد تصور کیا جائے گا۔ طالبان کمانڈر کا حکم بھارت کے لیے جھٹکا ہے اب وہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین پہلے کی طرح استعمال نہیں کر سکے گا۔ افغانستان کا یہ اقدام خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم ترین ہے۔
بھارت نے پہلگام واقعے کو جواز بنا کر سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرکے جو آبی جارحیت کی ہے اسے پوری دنیا میں منفی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ غیر ملکی دورے میں ایران، ترکیہ، آذربائیجان میں پوری شد و مد کے ساتھ پانی کے مسئلے کو اٹھاتے ہوئے بھارتی جارحیت کا پردہ چاک کیا ہے۔
بھارت کسی صورت پاکستان کا پانی سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرکے نہیں روک سکتا، یہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ دنیا پاکستان کے موقف کی حامی ہے۔ بھارت کو ہر صورت معاہدے کو بحال کرنا ہوگا۔ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے۔ بھارت کو ہماری ریڈ لائن (پانی) اور شہ رگ (مقبوضہ کشمیر) پر ایک دن ہر صورت سرینڈر کرنا ہوگا۔ ورنہ بقول جنرل ساحر شمشاد اگلی پاک بھارت جنگ زیادہ وسیع ہوگی پھر بین الاقوامی ثالثی بھی مشکل ہو جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریڈ لائن کشمیر کو کے خلاف دیا ہے کے لیے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔