Juraat:
2026-06-03@00:12:43 GMT

اقتصادی کونسل اجلاس،وزیراعظم سے سندھ حکومت کے شکوے

اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT

اقتصادی کونسل اجلاس،وزیراعظم سے سندھ حکومت کے شکوے

وفاقی فنڈز میں اٹھارہ ارب اور عوام کو بنیادی سہولتوں کیلئے بیس ارب اضافی دینے پر آمادگی
ایم این ایز کا بجٹ پچاس ارب سے بڑھا کر ستر ارب کر دیا گیا ، اندرونی کہانی سامنے آگئی

وزیراعظم شہباز شریف سے اقتصادی کونسل اجلاس میں سندھ حکومت کے شکووں کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔تفصیلات کے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اقتصادی کونسل اجلاس کا اندرونی احوال سامنے آ گیا۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے چھوٹے صوبوں کے مسائل توجہ سے سنے، وزیر اعظم نے سندھ کے شکوے پر وفاقی فنڈز میں اٹھارہ ارب اور عوام کو بنیادی سہولتوں کے لیے بیس ارب روپے اضافی دینے پر آمادگی ظاہر کی۔اس کے علاوہ ایم این ایز کا بجٹ پچاس ارب روپے سے بڑھا کر ستر ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ذرائع وزارت خزانہ نے کہا کہ این ای سی میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے آئندہ سال ٹریکٹرز درآمد پر ڈیوٹی کی رعایت مانگی تھی تاہم پنجاب کی درآمدی ٹریکٹرز پر ڈیوٹی میں ریلیف کی تجویز نہیں مانی گئی۔اجلاس میں سندھ کا ترقیاتی بجٹ سینتالیس ارب سے بڑھا کر پینسٹھ ارب روپے کر دیا اور کراچی پورٹ سے حیدرآباد تا سکھر ایم سکس کیلئے مختص فنڈ آدھا کر دیا گیا ہے جبکہ ایم سکس کا بجٹ تیس ارب سے کم کرکے پندرہ ارب روپے کر دیا گیا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ زراعت کی پیداوارکم ہو رہی ہے بڑھائی جائے، سندھ حکومت کا مؤقف تھا کہ زرعی انکم ٹیکس لگنے سے زراعت کی پیداوار مزید کم ہوگی۔خیبرپختونخوا نے بقایاجات کی مد میں محاصل اور این ایف سی ریوائز کرنے کا مطالبہ کیا، اجلاس میں این ایف سی کو ازسرنو مقرر کرنے کیلئے اگست میں اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کر دیا گیا ارب روپے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ