اقتصادی کونسل اجلاس،وزیراعظم سے سندھ حکومت کے شکوے
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
وفاقی فنڈز میں اٹھارہ ارب اور عوام کو بنیادی سہولتوں کیلئے بیس ارب اضافی دینے پر آمادگی
ایم این ایز کا بجٹ پچاس ارب سے بڑھا کر ستر ارب کر دیا گیا ، اندرونی کہانی سامنے آگئی
وزیراعظم شہباز شریف سے اقتصادی کونسل اجلاس میں سندھ حکومت کے شکووں کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔تفصیلات کے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اقتصادی کونسل اجلاس کا اندرونی احوال سامنے آ گیا۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے چھوٹے صوبوں کے مسائل توجہ سے سنے، وزیر اعظم نے سندھ کے شکوے پر وفاقی فنڈز میں اٹھارہ ارب اور عوام کو بنیادی سہولتوں کے لیے بیس ارب روپے اضافی دینے پر آمادگی ظاہر کی۔اس کے علاوہ ایم این ایز کا بجٹ پچاس ارب روپے سے بڑھا کر ستر ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ذرائع وزارت خزانہ نے کہا کہ این ای سی میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے آئندہ سال ٹریکٹرز درآمد پر ڈیوٹی کی رعایت مانگی تھی تاہم پنجاب کی درآمدی ٹریکٹرز پر ڈیوٹی میں ریلیف کی تجویز نہیں مانی گئی۔اجلاس میں سندھ کا ترقیاتی بجٹ سینتالیس ارب سے بڑھا کر پینسٹھ ارب روپے کر دیا اور کراچی پورٹ سے حیدرآباد تا سکھر ایم سکس کیلئے مختص فنڈ آدھا کر دیا گیا ہے جبکہ ایم سکس کا بجٹ تیس ارب سے کم کرکے پندرہ ارب روپے کر دیا گیا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ زراعت کی پیداوارکم ہو رہی ہے بڑھائی جائے، سندھ حکومت کا مؤقف تھا کہ زرعی انکم ٹیکس لگنے سے زراعت کی پیداوار مزید کم ہوگی۔خیبرپختونخوا نے بقایاجات کی مد میں محاصل اور این ایف سی ریوائز کرنے کا مطالبہ کیا، اجلاس میں این ایف سی کو ازسرنو مقرر کرنے کیلئے اگست میں اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کر دیا گیا ارب روپے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔