پاکستان عالمی سطح پر ضابطوں اور اختراعات کے فریم ورک کی تشکیل کا بغور جائزہ لے رہا ہے، بلال بن یوسف
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
وزیر مملکت و وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کرپٹو و بلاک چین اور پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کے سی ای او بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ہم ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے متعلق سیکھنے، سننے اور اپنا حصہ ڈالنے کے لیے آئے ہیں پاکستان اس بات کا بغور جائزہ لے رہا ہے کہ عالمی رہنما کس طرح ضابطوں اور اختراعات کے فریم ورک کی تشکیل میں مصروف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وزیر مملکت برائے کرپٹو و بلاک چین اور پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کے سی ای او بلال بن ثاقب نے امریکی سینیٹر بل ہیگری، سینیٹر رک اسکاٹ، سینیٹر ٹم شیہی اور سینیٹر جم جسٹس سے بھی ملاقاتیں کیں۔
سینیٹر جم جسٹس BITCOIN Act کے شریک اسپانسر بھی ہیں اور حکومتی و بنیادی ڈھانچے میں بلاک چین کے استعمال کے حامی ہیں۔
اس کے علاوہ وزیرِ مملکت کی سینیٹر ٹیڈ کروز، کانگریس مین ٹرائے ڈاو?نگ، کانگریس مین ریان زنکی، کانگریس مین رک میک کورمک، اور کانگریس مین ڈیرک وین آرڈن سے بھی اہم ملاقاتیں ہوئیں۔
یہ تمام افراد ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے پالیسیاں تشکیل دینے کے عمل میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں، خانگی شعبے کی نمائندہ، EdentifID کی بانی جِل کیلی بھی کانگریس مین میک کورمک کے ساتھ ملاقات میں شریک تھیں، جنہوں نے بلاک چین شناختی ٹیکنالوجی کے حوالے سے قیمتی تجاویز پیش کیں۔
وزیرِ مملکت نے وائٹ ہاؤسس کے ایسوسی ایٹ کونسل کیون کلائن اور آگونا ایزے سے بھی ملاقات کی۔
وزیرِ مملکت بلال بن ثاقب نے کہا کہ ہم یہاں سیکھنے، سننے اور شراکت کے لیے آئے ہیں، پاکستان دنیا کے رہنماؤں کے ریگولیشن، جدت اور مالی شمولیت سے متعلق تجربات کا بغور مطالعہ کر رہا ہے تاکہ بہترین ماڈلز کو اپنے تناظر میں ڈھالا جا سکے، نہ کہ صرف ان کی نقل کی جائے۔
دورے کے دوران پاکستان کی حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کا قیام، ورچوئل اثاثہ جات کا ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنا، اور ترسیلات زر کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اسٹیبل کوائنز کے استعمال جیسے اقدامات شامل ہیں۔
وزیرِ مملکت نے مزید کہا کہ ہم ان افراد کے ساتھ میز پر بیٹھے جو دنیا کی مالیاتی سمت کا تعین کر رہے ہیں یہ نہ صرف ایک اعزاز بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان صرف پیچھے رہ کر نہیں دیکھ رہا ہم قیادت کے لیے موجود ہیں۔
پاکستان جہاں نوجوان آبادی کی اکثریت، تیزی سے بڑھتی ہوئی فری لانس معیشت اور سالانہ 36 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلات موجود ہیں، وہاں وہ شفافیت، رسائی اور طویل مدتی اثرات پر مبنی ذمے دارانہ جدت کے لیے ایک عملی نمونہ بن سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کانگریس مین بلاک چین کے لیے ا بلال بن سے بھی
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔
توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
نوٹس متن کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.