انڈیا – بھاڑ میں جاؤ – اشتیاق ہمدانی کے سوال پر طارق فاطمی کا جواب
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
ماسکو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 6 جون 2025ء)ماسکو میں روس کے معروف تھنک ٹینک "والدائی کلب" کے زیر اہتمام ایک بین الاقوامی سطح کا مباحثہ منعقد ہوا، جس کا موضوع روس اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات، جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتِ حال، اور خطے میں سلامتی کے چیلنجز تھے۔ نشست کی صدارت کرتے ہوئے مباحثے کے موڈریٹر انتون بیسپالوف نے پاکستان کو یوریشیائی خطے کا ایک کلیدی ملک قرار دیا اور کہا کہ روس اور پاکستان کے تعلقات کی ایک تاریخی بنیاد ہے، جو گزشتہ دہائیوں میں بتدریج ترقی کرتے رہے ہیں، تاہم اب بھی ان تعلقات میں مزید وسعت کے امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور افغانستان-پاکستان سرحد کی صورتحال پر روسی تشویش کا اظہار بھی کیا۔(جاری ہے)
مباحثے میں پاکستان کے وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے خارجہ امور، سید طارق فاطمی نے حالیہ پاک-بھارت تناؤ پر پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں رہا ہے، لیکن بھارت میں حکمران جماعت "بی جے پی" کی انتہا پسندانہ پالیسیوں نے اس راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے اس کا الزام پاکستان پر لگا دیا، حالانکہ پاکستان نے آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کی تجویز دی تھی جسے بھارت نے مسترد کرتے ہوئے فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ بعد ازاں، بھارت نے جنگ بندی پر صرف امریکہ کے دباؤ کے بعد رضامندی ظاہر کی۔ سید طارق فاطمی نے مزید کہا کہ پاکستان خود افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروپوں کا نشانہ بنا ہوا ہے، اور پاکستان کسی طور دہشت گردی کی حمایت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال کسی بھی وقت دوبارہ بگڑ سکتی ہے، اس لیے پاکستان بین الاقوامی برادری کی ثالثی کا خیرمقدم کرتا ہے۔ پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بھارت کی جانب سے پانی کے مشترکہ استعمال کے معاہدے سے یکطرفہ انخلاء کو غیر قانونی اور عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ عالمی بینک کی گارنٹی کے تحت ہوا تھا، اور بھارت کا انکار عالمی ضوابط کے خلاف ہے۔ "تو پھر جیسے روسی میں کہتے ہیں... بھاڑ میں جاؤ!" انہوں نے کہا۔ اس موقع پر روسی تھنک ٹینک IMEMO RAS کے انڈو پیسفک ریجن کے ماہر گلیب ماکارویچ نے کہا کہ اگرچہ بھارت جنوبی ایشیا میں روس کا بڑا پارٹنر ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ روس پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نظر انداز کرے۔ انہوں نے کہا کہ روس-پاک تعلقات کو بھارت-پاکستان کشیدگی سے الگ رکھ کر، سلامتی، انسداد دہشت گردی، اور بحرِ ہند میں میری ٹائم سیکیورٹی کے تناظر میں فروغ دینا چاہیے۔ پروگرام کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا، جس میں پاکستانی صحافی اشتیاق ہمدانی نے پانی کے تنازع اور خطے میں امن کے لیے ثالثی کے کردار پر سوالات کیے۔ ان سوالات کے جواب میں سید طارق فاطمی نے کھل کر گفتگو کی اور اشتیاق ہمدانی کی روسی زبان میں کی گئی گفتگو کو سراہا۔ طارق فاطمی نے کہا، "آپ یہاں ماسکو میں کام کر رہے ہیں، یہ ہمارے لیے خوش آئند ہے کہ پاکستانی میڈیا کے نمائندے روس میں موجود ہیں۔" اس موقع پر انہوں نے روسی زبان میں روانی سے گفتگو کی، جس پر ہمدانی نے ان کی روسی زبان پر گرفت کو سراہا۔ مباحثے کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ روس اور پاکستان کو باہمی تعلقات کو سیاسی کشیدگیوں سے بالا رکھ کر اقتصادی، سیکیورٹی اور علاقائی تعاون کے شعبوں میں مستحکم بنیادوں پر فروغ دینا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے طارق فاطمی نے انہوں نے کہا اور پاکستان پاکستان کے کہ پاکستان کرتے ہوئے نے کہا کہ کہ روس
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز