عبوری حکومت کا بنگلہ دیش میں آئندہ عام انتخابات اگلے سال اپریل میں منعقد کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے ملک میں اپریل 2026 کے اوائل میں انتخابات کا اعلان کردیا ہے۔
یہ گزشتہ سال اگست میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو طالبعلموں کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد پہلے انتخابات ہیں۔
نوبیل امن انعام یافتہ ماہر معیشت محمد یونس نے کہا کہ میں اعلان کر رہا ہوں کہ انتخابات اپریل 2026 کے پہلے نصف میں کسی بھی دن ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: دفاعی حکمت عملی کا مقصد مطلق فتح ہونا چاہیے، عدم تیاری خودکشی ہے، محمد یونس
اقتدار کے لیے کوشاں سیاسی جماعتیں بار بار یونس سے انتخابی شیڈول کا اعلان کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو سابقہ دورِ حکومت کے بعد جمہوری اداروں کی مکمل اصلاح کی ضرورت ہے، اس لیے وقت درکار ہے۔
انہوں نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں کہا کہ حکومت انتخابات کے انعقاد کے لیے موزوں ماحول پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ ملک میں اصلاحات ضروری ہیں۔
محمد یونس نے کہا کہ یہ یاد رکھا جائے کہ بنگلہ دیش ہر اُس وقت گہرے بحران میں چلا گیا جب بھی ایک ناقص انتخاب کا انعقاد کیا گیا۔
عید الاضحیٰ کے موقع پر قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے ایسے ہی انتخابات کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور ایک وحشی فاشسٹ قوت میں تبدیل ہو گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔