آئی ایم ایف کی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کیلئے سخت شرائط
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئی ایم ایف کی سخت شرائط اورمالی مشکلات کے پیش نظر حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 5 سے 7.5 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد تک اضافہ کیا جائے، اس تجویز سے آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ مسلح افواج کے لیے اضافی مراعات دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں جن میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ شامل ہے‘مثال کے طور پر رسک الاؤنس کو پنشن ایبل الاؤنس میں تبدیل کرنے کی تجویز موجود ہے۔
یکم جولائی 2025 سے افواج کو ڈیفائنڈ کنٹری بیوٹری پنشن (DCP) نظام میں شامل کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے لیکن اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔گریڈایک تا16کے سول ملازمین کیلئے 30 فیصد ڈسپیئرٹی الاؤنس کی تجویز‘ بیرون ملک سے حاصل کردہ فری لانس اور ڈیجیٹل سروسز کی آمدن کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا امکان‘ مقامی گاڑیوں پر 18 فیصد جی ایس ٹی پرغور کیا جا رہا ہے۔
حکومت آئندہ بجٹ میں دیگر پنشن اصلاحات پر بھی پیش رفت کرنا چاہتی ہے۔ کچھ سخت اقدامات پہلے ہی لیے جا چکے ہیں اور مزید سخت اقدامات متوقع ہیں۔
گریڈ ایک تا16کے سول ملازمین کے موجودہ دو ایڈہاک الاؤنسز میں سے ایک کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی بھی تجویز ہے۔
وزارت خزانہ نے مختلف تجاویز پر مبنی خاکے تیار کیے ہیں جو وفاقی کابینہ کو 10 جون کو منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی لاگت کا بھی تخمینہ لگایا گیا ہے جو کابینہ کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 17.
ادائیگیوں کی جانب، قرضوں کی واپسی سب سے بڑی مد ہے، جس کی لاگت موجودہ بجٹ کے ابتدائی تخمینے 9.775 ٹریلین روپے سے کم ہو کر آئندہ بجٹ میں 8.1 ٹریلین روپے ہو سکتی ہے جبکہ رواں مالی سال کے اختتام تک اس مد میں 8.7 ٹریلین روپے خرچ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔محصولی آمدن کے لیے ایف بی آر کا ہدف 14.14 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے، جو موجودہ سال کے نظرثانی شدہ ہدف 12.33 ٹریلین روپے سے زائد ہے۔
درآمدی مرحلے پر ٹیرف میں رد و بدل کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس سے 150 سے 200 ارب روپے کی کمی متوقع ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ شعبہ جات میں سٹیل، آٹو پارٹس، ٹائلز وغیرہ شامل ہوں گے کیونکہ یہ صنعتیں بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث علاقائی مسابقت میں پیچھے رہ گئی ہیں۔فری لانسرز کی بیرون ملک آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز ہے اور سٹیٹ بینک ان کے اکاؤنٹس کی شناخت میں مدد دے گا۔
"محبت ملکیت نہیں، احساس ہے، یقین ہے" دوستی کا ہاتھ نہ بڑھانے پر ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا قتل، علی ظفر کی نظم ’’محبت‘‘ وائرل ہوگئی
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: تنخواہوں اور پنشن میں ٹریلین روپے کی تجویز کیا گیا سال کے گیا ہے
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔