بھارت کا پانی بند کرنا ایٹمی آبی جنگ کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے: بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
واشنگٹن کے دورے پر موجود پارلیمانی وفد کی قیادت کرنے والے بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ بھارت کا پاکستان کے پانی کی فراہمی بند کرنا ایٹمی آبی جنگ کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے۔
بلاول بھٹو نے مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ سے خطاب کے دوران دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ پانی کی ترسیل روکنا ہمارے لیے اعلانِ جنگ کے برابر ہو گا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہم یہ بات کسی اشتعال یا جذبات میں نہیں کہہ رہے، نہ ہی اس بات میں کوئی خوشی پوشیدہ ہے۔
چیئرمین پی پی پی اور پارلیمانی وفد کی قیادت کرنے والے بلاول بھٹو زرداری کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہماری یہ بات ایک حقیقت پر مبنی سنجیدہ مؤقف ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو کہنا ہے کہ
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔