بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، 24 کروڑ پاکستانیوں کا پانی روکنا جارحیت ہے، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
واشنگٹن میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی پی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ نے اہم کردار اد اکیا، پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت پر دوست ملکوں کے مشکور ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی اعلیٰ سطح کے سفارتی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی اعلیٰ سطح کے سفارتی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ بھارت سے تمام معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، بھارتی نیول آفیسر کلبھوشن یادیو کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 24 کروڑ پاکستانیوں کو پانی سے روکنے کا اقدام کھلی جارحیت ہے، بھارت اپنے عوام سمیت عالمی برادری سے جھوٹ بول رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو اپنے طیارے گرنے کا اعتراف کرنے میں ایک ماہ کا وقت لگا، بھارتی وزیرِ اعظم مسلسل دھمکی آمیز رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا مسلسل جھوٹ بولتا رہا، دہشت گردی کا کسی مذہب یا ملک سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا، کشیدگی کے دوران پاکستان کے کسی طیارے کو نقصان نہیں پہنچا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے شاہینوں نے بھارت کے 6 طیارے مار گرائے، بھارت کے 20 طیارے ہمارے ہدف پر تھے، پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری کشیدگی کے نے کہا کہ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔