پورے پنجاب میں ایک لاکھ صفائی ورکرز فیلڈ میں موجود ہیں: مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ پورے پنجاب میں ایک لاکھ صفائی ورکرز فیلڈ میں موجود ہیں جو مشینری کے ذریعے الائشوں کو ڈمپنگ سائٹ تک پہنچا رہے ہیں۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے راولپنڈی میں عید صفائی آپریشن کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عید کا پیغام ایثار کا ہے، پورے راولپنڈی میں صبح سے آپریشن جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ورکرز پنجاب کے 10 ڈویژن اور 41 اضلاع میں کام کر رہے ہیں، پہلی مرتبہ پنجاب میں تمام گھروں میں بیگز تقسیم کیے گئے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ گلی، محلوں اور بازاروں سے الائشوں کو اٹھا کر ٹرانسفر سٹیشن تک پہنچایا جا رہا ہے، ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ورکرز اور ضلع انتظامیہ کے افسران وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر متحرک ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ سیف سٹی کی مدد سے سرویلنس جاری ہے، سیف سٹیز کے کیمروں کی مدد سے مختلف شہروں پر موجود الائشوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ ای میپنگ کا تجربہ کیا گیا اور کیمپس لگائے گئے، وزیراعلیٰ پنجاب عید صفائی اپریشن کے حوالے سے کنٹرول روم سے منسلک ہیں۔انہوں نے کہا کہ پورے راولپنڈی کی انتظامیہ اس وقت فیلڈ میں موجود ہے، پنجاب میں تمام افسران اور فیلڈ سٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ہدایات دی گئی ہیں کہ شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم اورنگزیب نے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔