۔ ایرانی وزیرِ انٹیلیجنس اسماعیل خطیب نے اتوار کے روز اس انٹیلیجنس آپریشن کی تفصیلات بیان کیں جس کا انکشاف گزشتہ روز ایرانی میڈیا پر کیا گیا تھا۔ ایرانی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل خطیب نے کہا: "ایرانی وزارتِ انٹیلیجنس کو صہیونی ریاست سے متعلق ایک قیمتی خزانے کی صورت میں اسٹریٹجک، آپریشنل اور سائنسی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔" اسلام ٹائمز۔ ایرانی سیکیورٹی حکام نے تہران کی جانب سے اسرائیلی قبضے سے حساس اسٹریٹجک دستاویزات کے بڑے ذخیرے کے حصول کے بارے میں نئی ​​تفصیلات ظاہر کی ہیں جن میں جوہری تنصیبات، سفارتی تعلقات اور سائنسی معلومات شامل ہیں۔ ایرانی وزیرِ انٹیلیجنس اسماعیل خطیب نے اتوار کے روز اس انٹیلیجنس آپریشن کی تفصیلات بیان کیں جس کا انکشاف گزشتہ روز ایرانی میڈیا پر کیا گیا تھا۔ ایرانی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل خطیب نے کہا: "ایرانی وزارتِ انٹیلیجنس کو صہیونی ریاست سے متعلق ایک قیمتی خزانے کی صورت میں اسٹریٹجک، آپریشنل اور سائنسی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔" انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انٹیلیجنس ادارے کو جو دستاویزات موصول ہوئیں، وہ قابض اسرائیلی حکومت کے منصوبوں اور اس کی جوہری تنصیبات سے متعلق ہیں، اور یہ دستاویزات ملک کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہیں۔ خطیب نےزور دیتے ہوئے کہا: "یہ ایک بہت بڑا انٹیلیجنس واقعہ ہے۔ اسے صرف ہزاروں دستاویزات کے حصول تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔" انہوں نے مزید کہا: "ہمیں مکمل جوہری دستاویزات حاصل ہوئیں، اور ساتھ ہی اسرائیل کے مغربی ممالک اور امریکہ کے ساتھ تعلقات سے متعلق بھی اہم دستاویزات ملی ہیں۔"

آپریشن کیسے انجام پایا؟
ایران کے وزیر انٹیلیجنس نے بتایا کہ یہ دستاویزات محفوظ طریقے سے ایران منتقل کی گئی ہیں، دستاویزات کی منتقلی کے طریقہ کار بھی ان کی اہمیت جتنے ہی اہم ہیں۔البتہ، انہوں نے فی الحال ان طریقوں کو ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ: "یہ کارروائی کچھ عرصہ قبل مکمل ہو چکی تھی، لیکن ہم نے اس کی خبر دینے میں اس وقت تک تاخیر کی تاکہ کارروائی کی مکمل حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔" انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ "یہ دستاویزات جلد منظر عام پر لائی جائیں گی۔" اسماعیل خطیب کے بقول: "یہ ایک پیچیدہ، وسیع اور کثیر الجہتی آپریشن تھا، جس کی منصوبہ بندی مختلف افراد کو بھرتی کر کے، مطلوبہ ذرائع تک رسائی حاصل کر کے کی گئی۔"

ایرانی آپریشن کے وقت کی اہمیت کیا ہے؟
اس انکشاف پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ "ایران کی جانب سے اسرائیلی جوہری دستاویزات کے حصول کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری مذاکرات جاری ہیں، اس لیے اس وقت کا انتخاب اہم سیاسی مفہوم رکھتا ہے۔" گزشتہ روز ایرانی میڈیا نے انکشاف کیا تھا کہ ایران کی انٹیلیجنس ایجنسی کو اسرائیل سے متعلق حساس اور اسٹریٹجک معلومات و دستاویزات کی ایک بڑی مقدار تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ ان ذرائع کے مطابق، "حاصل کی گئی معلومات میں ہزاروں ایسی دستاویزات شامل ہیں جو اسرائیل کے جوہری منصوبوں اور تنصیبات سے متعلق ہیں۔" یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، اسرائیلی دھمکیاں جاری ہیں کہ وہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے، اور اسی دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری پروگرام پر بالواسطہ بات چیت بھی جاری ہے، تاکہ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسماعیل خطیب نے انہوں نے اور اس

پڑھیں:

ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے

امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔

امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔

مزید پڑھیں

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے