ایک گھر میں بجلی کے دو میٹر لگانے پر پابندی کی خبریں جھوٹی قرار
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
وفاقی حکومت کے پاور ڈویژن کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ حکومت نے ایک گھر میں بجلی کے دو میٹر لگوانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پاور ڈویژن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بجلی کے دو میٹر لگانے پر پابندی کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی خبریں سراسر جھوٹ، گمراہ کن اور عوام میں بے چینی پھیلانے کی کوشش ہیں، ایسی جھوٹی خبریں پھیلانا اور شیئر کرنا پیکا ایکٹ کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ترجمان پاور ڈویژن نے کہا کہ کسی بھی رہائشی جگہ پر دوسرا بجلی کا میٹر آج بھی مروجہ قوانین کے تحت حاصل کیا جا سکتا ہے، نیپرا کنزیومر سروسز مینول 2021 کے مطابق ایسی رہائشی جگہ جو علیحدہ پورشن، علیحدہ سرکٹ، علیحدہ داخلی راستہ اور علیحدہ کچن پر مشتمل ہو وہاں علیحدہ میٹر کی تنصیب کی اجازت موجود ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ بجلی کے ناجائز استعمال اور سبسڈی کے غلط فائدے کو روکنے کیلیے قانون پہلے بھی موجود تھا اور اب بھی مکمل طور پر نافذ العمل ہے، عوام سے گزارش ہے اس قسم کی جھوٹی خبروں پر توجہ نہ دیں اور بجلی کے میٹر کے درست اور شفاف استعمال میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے تعاون کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بجلی کے
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :