پنجاب میں نان رجسٹرڈریسٹورنٹ اور شادی ہالوں کی رجسٹریشن کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب میں نان رجسٹرڈ ریسٹورنٹ اور شادی ہالوں کی رجسٹریشن کا فیصلہ کرلیا گیا۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز نےخصوصی اجلاس میں ریسٹورنٹ اورشادی ہالوں کی رجسٹریشن کی منظوری دی،صوبےبھرمیں واقع چھوٹے بڑے ریسٹورنٹ اور شادی ہالوں کی رجسٹریشن کیلئے اقدامات کی ہدایت اور ٹیکس بڑھانے کی تمام تجاویز مسترد کردیں۔
وزیراعلی پنجاب نےمتعلقہ اداروں کوہدایت دیتےہوئےکہا ٹیکس نہیں ٹیکس نیٹ ورک بڑھائیں،ٹیکس بڑھا کرعوام پربلاوجہ بوجھ ڈالنےکی اجازت نہیں دی جائیگی،رجسٹریشن کرانیوالےکو سزاملےاورٹیکس چوری کر نیوالےمزےکریں یہ نہیں ہوگا،عام آدمی پرمالی بوجھ نہیں ڈالناچاہتے، دولاکھ روپے تنخواہ لینےوالاٹیکس دیتا اور کروڑوں آمدن والا ٹیکس نہیں دیتا۔
نیشنل اکیڈمی کو جدید بنانا میرا سب سے بڑا مقصد ہے: عاقب جاوید
اس کے علاوہ اجلاس میں پنجاب ریونیو اتھارٹی،مائنز اینڈمنرل اور دیگر محکموں کو ریونیو کے نئے مواقع دریافت کرنےکا بھی حکم دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔