وزیراعلیٰ پنجاب کا ٹیکس کے حوالے سے اہم فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں نان رجسٹرڈ ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کی رجسٹریشن کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس اقدام کی منظوری دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب صرف ٹیکس دینے والے ہی نہیں، بلکہ ٹیکس چوری کرنے والوں کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں گے، نہ کہ ٹیکس کی شرح کو۔ “2 لاکھ تنخواہ لینے والا ٹیکس دیتا ہے اور کروڑوں کمانے والا نہیں؟ یہ ناانصافی اب مزید نہیں چلے گی۔”
وزیراعلیٰ نے پنجاب ریونیو اتھارٹی، مائنز اینڈ منرل اور دیگر اداروں کو ہدایت کی کہ نئے ریونیو ذرائع تلاش کیے جائیں تاکہ عام آدمی پر بوجھ ڈالے بغیر آمدنی میں اضافہ ممکن ہو۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ٹیکس بڑھا کر عوام پر بوجھ نہیں ڈالیں گے، بلکہ نظام کو مؤثر اور منصفانہ بنائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔