جامعہ کراچی میں 36 انچ کی پانی کی پائپ لائن پھٹ گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جامعہ کراچی ایک بار پھر واٹر بورڈ کی لاپرواہی کا شکار ہو گئی، جہاں پانی کی دو بڑی پائپ لائنوں میں خرابی نے نظامِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق 36 انچ قطر کی پائپ لائن مکمل طور پر پھٹ چکی ہے، جبکہ 84 انچ کی مین سپلائی لائن میں بھی خطرناک دراڑ پڑ چکی ہے، جس سے پانی کی بھاری مقدار تین روز سے ضائع ہو رہی ہے۔
جامعہ حکام کا کہنا ہے کہ قبرستان کی جانب جانے والا مرکزی راستہ پانی میں ڈوب چکا ہے، اور صورتحال تیزی سے خراب ہوتی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے متعدد بار واٹر بورڈ کو صورتحال سے آگاہ کیا، مگر تاحال کوئی ٹیم مرمت کے لیے نہیں پہنچی، جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر پائپ لائنوں کی مرمت فوری بنیادوں پر نہ کی گئی تو جامعہ کے قبرستان میں موجود قبریں زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے، جو ایک افسوسناک انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
انتظامیہ نے یہ بھی یاد دہانی کرائی کہ چند ہفتے قبل 84 انچ کی لائن پھٹنے کے باعث ادارے کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تھا، مگر اس کا ازالہ آج تک نہیں کیا گیا۔
جامعہ کراچی نے ایک بار پھر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غفلت کا سلسلہ بند کریں اور ترجیحی بنیادوں پر صورتحال کا نوٹس لے کر فوری اقدامات کریں، تاکہ تعلیمی اور مذہبی مقامات کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پائپ لائن
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔