شہباز شریف سیاسی بحران کا خاتمہ اولین ترجیح بنائیں، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا تھا کہ قول و فعل کے تضاد نے پاکستان کو بڑا نقصان پہنچایا ہے، سندھ کے عوام کو شفاف، غیر جانبدارانہ انتخابات کا حق مل جائے تو پی پی پی کو عبرتناک شکست ہوگی۔ انہوں نے کہا تھا کہ مفاد پرست سیاسی قیادت اور جماعتیں طلبہ یونینز کی بحالی میں بڑی رُکاوٹ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سیاسی بحران کا خاتمہ اولین ترجیح بنائیں۔ اپنے ایک بیان میں لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ گندم، مکئی، کپاس اور دیگر زرعی اجناس کے کاشتکار سخت پریشان ہیں، حکومت کسانوں اور زراعت کو بربادی سے بچائے۔ اس سے قبل نائب امیر جماعتِ اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا تھا کہ قول و فعل کے تضاد نے پاکستان کو بڑا نقصان پہنچایا ہے، سندھ کے عوام کو شفاف، غیر جانبدارانہ انتخابات کا حق مل جائے تو پی پی پی کو عبرتناک شکست ہوگی۔ انہوں نے کہا تھا کہ مفاد پرست سیاسی قیادت اور جماعتیں طلبہ یونینز کی بحالی میں بڑی رُکاوٹ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا تھا کہ لیاقت بلوچ
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔