پی آئی اے اور سعودی عرب کی ریاض ایئر کے مابین اہم اور تاریخی معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
پی آئی اے نے سعودی عرب کی نئی فضائی کمپنی، ریاض ایئر کے ساتھ ایک اہم اور تاریخی کارگو معاہدہ طے کر لیا۔
ترجمان قومی ایئرلائن کے مطابق پی آئی اے اور ریاض ایئر کے درمیان کارگو معاہدے کے تحت، کارگو کو پاکستان اور لندن سے ریاض لایا جائے گا جہاں سے دونوں ایئر لائنز کے نیٹ ورک کے ذریعے سامان کو منزل مقصود تک پہنچایا جائے گا۔ یہ معاہدہ 29 اکتوبر سے باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہوگا۔
ترجمان نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد پی آئی اے کے کارگو آپریشن کو وسعت دینا اور ادارے کے ریونیو میں نمایاں اضافہ کرنا ہے، یہ معاہدہ فضائی کارگو کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ قومی ایئر لائن کا پہلے ہی برٹش ایئرویز کے ساتھ ایک کامیاب اور مستحکم کارگو معاہدہ جاری ہے جس کے تحت ہر سال تقریباً 1000 ٹن کارگو برطانیہ منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ بھی پی آئی اے کی مضبوط کاروباری حکمت عملی کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی آئی اے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔