کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ جب بی جے پی اپنی 11 سالہ حکومت کا جشن منا رہی ہے، تب ملک کی حقیقت ممبئی سے آنے والی افسوسناک خبروں سے ظاہر ہوتی ہے، جہاں ٹرین سے گر کر کئی لوگوں کی موت واقع ہوگئی۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے ریاست مہاراشٹر میں ٹرین حادثے پر مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے 11 سال کے اقتدار کا جشن منا رہی ہے، جب ملک کی حقیقت ممبئی سے سامنے آ رہی ہے، جہاں ٹرین سے گر کر کئی لوگوں کی جانیں چلی گئی ہیں۔ رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ مودی حکومت 11 سال سے بغیر کسی جواب دہی اور تبدیلی کے چل رہی ہے اور صرف پروپیگنڈہ کی بنیاد پر قائم ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہا کہ حال کی بات کرنے کے بجائے بی جے پی حکومت 2047ء کے خواب بیچ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بی جے پی نام نہاد "خدمت" کے 11 سال کا جشن منا رہی ہے، تب ملک کی حقیقت ممبئی سے آنے والی افسوسناک خبروں سے ظاہر ہوتی ہے، جہاں ٹرین سے گر کر کئی لوگوں کی موت ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ریلوے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کی ریڑھ کی ہڈی ہے لیکن آج یہ عدم تحفظ، بھیڑ اور افراتفری کی علامت بن گئی ہے۔

راہل گاندھی نے مزید لکھا کہ مودی حکومت کے گیارہ سال میں کوئی جوابدہی نہیں، کوئی تبدیلی نہیں بلکہ صرف پروپیگنڈہ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت 2025ء کی بات چھوڑ کر 2047ء کے سپنے بیچ رہی ہے۔ انہون نے کہا کہ ملک آج کیا جھیل رہا ہے، یہ کون دیکھے گا۔ راہل گاندھی نے کہا "میں ٹرین حادثے میں مرنے والوں کے اہل خانہ سے اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کرتا ہوں"۔ واضح رہے کہ سنٹرل ریلوے کے حکام نے بتایا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس (CSMT) کی طرف سفر کرنے والے 8 مسافر آج تھانے ضلع کے ممبرا ریلوے اسٹیشن پر بہت زیادہ ہجوم والی ٹرین سے گر کر ہلاک ہوگئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے مودی حکومت نے کہا کہ لوگوں کی رہی ہے

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان