’صحافی نہ ہوتے تو واش روم صاف کرتے‘، فضا علی کے تبصرے پر سہیل وڑائچ بھی بول اٹھے
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اداکارہ و میزبان فضا علی حالیہ دنوں میں اس وقت سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آگئیں جب انہوں نے معروف صحافی سہیل وڑائچ کے حوالے سے طنزیہ تبصرہ کیا۔ فضاعلی نے حال ہی ایک پروگرام میں صحافی سہیل وڑائچ کے حوالے سے ایک تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ صحافی نہ ہوتے تو کسی ریسٹورنٹ یا باہر کسی ملک میں واش روم صاف کر رہے ہوتے۔
سہیل وڑائچ اگر صحافی نہ ہوتے تو باہر کے کسی ملک میں واشروم صاف کر رہے ہوتے ! فضا علی ???? pic.
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) June 9, 2025
فضا علی کے اس طنزیہ تبصرے پر سوشل میڈیا صارفین نے ان پر کڑی تنقید کی۔ سفینہ خان نے لکھا کہ سہیل وڑائچ پاکستان کی صحافت کا ایک قابلِ فخر اثاثہ ہیں۔ اُن کی خدمات، غیر جانبداری اور تجزیاتی بصیرت ہمیشہ سے ہمارے صحافتی منظرنامے کی پہچان رہی ہیں۔ اُن کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول یا قابلِ جواز نہیں۔ اُن کے خلاف استعمال کیے گئے نامناسب اور توہین آمیز الفاظ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ صحافتی اقدار اور شخصیات کا احترام ہر صورت برقرار رکھا جائے۔
سہیل وڑائچ پاکستان کی صحافت کا ایک قابلِ فخر اثاثہ ہیں۔ اُن کی خدمات، غیر جانبداری اور تجزیاتی بصیرت ہمیشہ سے ہمارے صحافتی منظرنامے کی پہچان رہی ہیں ۔ اُن کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول یا قابلِ جواز نہیں میں اُن کے خلاف استعمال کیے گئے نامناسب اور توہین آمیز الفاظ کی بھرپور مذمت…
— Safina Khan (@SafinaKhann) June 9, 2025
ایک ایکس صارف نے لکھا کہ فضا علی کی نظر میں ٹوائلٹ صاف کرنا توہین ہے۔ مطلب محنت کرنا حلال کمانا برا ہے۔ کیسے کیسے چھوٹے دماغ رہتے ہیں اس ملک میں۔
فضا کی نظر میں ٹوائلٹ صاف کرنا توہین ہے ۔ مطلب محنت کرنا حلال کمانا برا ہے۔ کیسے کیسے چھوٹے دماغ رہتے ہیں اس ملک میں۔
— Azba Abdullah (@AzbaAbdullah) June 9, 2025
صحافی اجمل جامی نے لکھا کہ بدقسمتی سے خاتون ادکارہ نے سہیل وڑائچ صاحب کی تضحیک کرنے کے چکر میں ٹوائلٹ صاف کرنے والوں کی توہین کر دی۔ انہیں معذرت کرنی چاہیے اگر ظرف ہو تو۔
درست نشاندہی کی آپ نے۔ بدقسمتی سے خاتون ادکارہ نے سہیل وڑائچ صاحب کی تضحیک کرنے کے چکر میں ٹوائلٹ صاف کرنے والوں کی توہین کر دی۔ یہ رہی ان کی دانش۔
انہیں معذرت کرنی چاہئے اگر ظرف ہو تو۔ https://t.co/AoERaOLzeC
— Ajmal Jami (@ajmaljami) June 9, 2025
سبوخ سید لکھتے ہیں کہ سہیل وڑائچ صاحب صوفی مزاج انسان ہیں، مسکرا کر خاموش ہو گئے لیکن اس وقت سب لوگوں کو پروگرام کا بائیکاٹ کر کے اُٹھ جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ اچھا طریقہ ہے کہ پہلے ایسے الفاظ بول کر پروگرام مشہور کرو اور بعد معافی مانگ لو۔
ویسا کہا تو یہ بھی جا سکتا ہے کہ سہیل وڑائچ صاحب بیرون ملک جو واش روم صاف کررہے ہوتے اس کا فضلہ فضا علی ہوتیں لیکن میں کسی گھٹیا سے گھٹیا انسان کے بارے میں بھی ایسی پست بات لکھنا درست نہیں سمجھتا ۔ سہیل وڑائچ صاحب صوفی مزاج انسان ہیں، مسکرا کر خاموش ہو گئے ، کوئی اور اینکر ہوتا… pic.twitter.com/v5QfHS247K
— Sabookh Syed | Journalist (@SaboohSyed) June 9, 2025
اداکارہ کے اس بیان پر سینئر صحافی نے سماجی رابطوں کی سائٹ ایکس پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میری حیثیت بیت الخلا صاف کرنے والوں سے بھی کمتر ہے۔ میں تو گلیوں کی وہ خاک ہوں جسے میاں محمد بخش نے ’گلیاں دا روڑا کُوڑا‘ کہا تھا۔ میرے نزدیک بیت الخلا کی صفائی کوئی ذلت کی بات نہیں ہے بلکہ دوسروں کی گندگی کو صاف کرنا ایک عظیم خدمت ہے۔
My status is even below than toilet cleaners: I’m a street dirt as Mian Muhammad Baksh called himself” galian da rora kora” cleaning toilet in my view is not insult as cleaning dirt of others a noble service https://t.co/PKebchqOzA
— Suhail Warraich (@suhailswarraich) June 9, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سہیل وڑائچ فضا علی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فضا علی کی تضحیک ملک میں فضا علی صاف کر
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔