پاکستانیوں نے ایک سال میں کتنا دودھ پیا اور کتنا گوشت کھایا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے اقتصادی سروے 26-2025 میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستانی عوام نے رواں مالی سال کے دوران 5 ارب 96 کروڑ کلو گوشت اور 58 ارب 30 کروڑ لیٹر دودھ استعمال کیا۔
رپورٹ کے مطابق، سال 25-2024 کے دوران سب سے زیادہ استعمال ہونے والا دودھ بھینس کا رہا، جس کی مقدار 34 ارب 50 کروڑ لیٹر رہی، اس کے بعد گائے کا دودھ 21 ارب 66 کروڑ لیٹر، بکری کا ایک ارب 10 کروڑ لیٹر، اونٹ کا 98 کروڑ لیٹر اور بھیڑ کا 4 کروڑ 30 لاکھ لیٹر دودھ استعمال کیا گیا۔
اس وقت ملک میں دودھ کی اوسط قیمت 200 روپے فی لیٹر ہے، شہری علاقوں میں یہ قیمت 240 روپے جبکہ دیہی علاقوں میں 150 سے 170 روپے فی لیٹر ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ اگر اوسط قیمت کو استعمال شدہ دودھ کی مقدار سے ضرب دیا جائے تو پاکستانی ایک سال میں قریباً 11 ہزار 600 ارب روپے کا دودھ پی چکے ہیں۔
سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانیوں نے ایک سال میں 5 ارب 96 کروڑ کلو گوشت استعمال کیا۔ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا گوشت مرغی کا رہا جس کی مقدار 2 ارب 58 کروڑ کلو ہے۔ اس کے بعد بیف (گائے اور بھینس کا گوشت) 2 ارب 54 کروڑ کلو، اور مٹن (بکرا اور بھیڑ) 83 کروڑ 50 لاکھ کلو رہا۔
مزید پڑھیں: ترقیاتی بجٹ 26-2025: پلاننگ کمیشن کے 4 ہزار 223 ارب روپے سے زائد کے قومی ترقیاتی منصوبے کیا ہیں؟
موجودہ مارکیٹ ریٹس کے مطابق:
مرغی کا گوشت: 1549 ارب روپے
بیف: 3 ہزار ارب روپے
مٹن: 1920 ارب روپے
یوں پاکستانی عوام نے ایک سال میں مجموعی طور پر 6 ہزار 469 ارب روپے کا گوشت استعمال کیا۔
اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں دودھ اور گوشت کے استعمال میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ دودھ کا استعمال 2022-23 میں 54.
گوشت کا استعمال 2022-23 میں 5.5 ارب کلو، 2023-24 میں 5.58 ارب کلو اور رواں مالی سال میں 5.96 ارب کلو ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں خوراک کے رجحانات میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ طلب بھی مسلسل بڑھ رہی ہے، جو نہ صرف معیشت بلکہ زرعی پیداوار پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ پاکستان، پاکستانی دودھ، گوشت گائے، بیل ، بکری
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستانی دودھ گوشت گائے بیل بکری استعمال کیا ایک سال میں کروڑ کلو ارب روپے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔